AI
مصنوعی ذہانت کی ترقی دھیمی کرنے کا مطالبہ اور ڈیوڈ سیکس کا مؤقف
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے تناظر میں ٹیک دنیا کے اندر سے اب احتیاط اور بریک لگانے کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ ماہرین اور کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ غیر متوازن ترقی انسانیت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) کی انتہائی تیز رفتار ترقی نے جہاں ایک طرف انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر دنیا بھر کے ماہرین اور صنعت کے نمایاں رہنماؤں کی طرف سے تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر مصنوعی ذہانت کی رفتار کو دھیمی کرنے کے مطالبات کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں۔ اس سلسلے میں مشہور کاروباری شخصیت ڈیوڈ سیکس نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر عملی اقدامات کریں تاکہ اس ٹیکنالوجی کو بے قابو ہونے سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب، مختلف تحقیقی اداروں اور کمپنیوں کے سابق محققین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے سسٹمز جس تیزی سے ارتقا کی منزلیں طے کر رہے ہیں، اس سے انسانیت کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اے آئی کے کچھ عملے کے ارکان انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے حقیقی طور پر خائف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا کے صف اول کے ٹیک اداروں کے سربراہان اور شخصیات جیسے کہ ایلن مسک اور اوپن اے آئی کے کرتا دھرتا بھی 'لاپرواہ' اے آئی کی ترقی پر بریک لگانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ اینتھروپک کے سی ای او نے بھی خبردار کیا ہے کہ اے آئی کمپنیوں کو اپنے ماڈلز کی تیاری کی رفتار کو سست کرنا چاہیے کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے خدشات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر وقت رہتے اس حوالے سے ضابطے اور حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے، تو اس کے نتائج معاشرے اور معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں رضاکارانہ اقدامات اور ضابطہ اخلاق کی تشکیل کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے اور اس کے ممکنہ نقصانات کو روکا جا سکے۔