Business
جرمن کمپنیوں کا چین کی جانب رخ، امریکی سرمایہ کاری میں کمی
جرمن انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک ریسرچ (IW) کی ایک نئی تحقیق کے مطابق جرمن کمپنیوں نے چین کے لیے اپنی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ میں جرمن سرمایہ کاری میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
کولون میں قائم جرمن انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک ریسرچ (IW) کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین تحقیقی مطالعے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جرمن کارپوریشنز نے اپنی خطیر سرمایہ کاری کا رخ امریکہ سے موڑ کر ایک بار پھر چین کی طرف کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی معاشی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں مغربی ممالک کی جانب سے چین پر معاشی انحصار کم کرنے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران جرمن کمپنیوں کی جانب سے چین میں اربوں ڈالر منتقل کیے گئے ہیں، جو کہ ایشیائی مارکیٹ پر ان کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی بڑی مارکیٹ اور وہاں موجود پیداواری صلاحیتیں جرمن کاروباری اداروں کے لیے بدستور انتہائی پرکشش ہیں۔ دوسری طرف، امریکہ میں جرمن سرمایہ کاری کے رجحان میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی تجزیہ کار اس تبدیلی کو بین الاقوامی تجارت میں بدلتے ہوئے رجحانات اور امریکی معیشت سے متعلقہ خدشات سے جوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ بعض پالیسی ساز اس بات پر زور دے رہے تھے کہ کمپنیوں کو اپنے خطرات کو کم کرنے کے لیے چین سے باہر دیکھنا چاہیے، لیکن عملی طور پر کاروباری منافع اور رسد کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے جرمن فرمز چین میں مزید سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی بیانیے کے برعکس، کاروباری فیصلے اکثر زمینی معاشی حقائق اور منافع کے امکانات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اس معاشی تبدیلی کے عالمی تجارت اور بالخصوص جرمنی، چین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔