LIVE
Loading Breaking News...

نازی کیمپ گارڈ کی زندگی پر مبنی نئی فلم ٹورانٹو فیسٹیول میں پیش

News Image
ٹورانٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پیش کی جانے والی نئی فلم ایک ایسے نازی ڈیتھ کیمپ گارڈ کے گرد گھومتی ہے جو طویل عرصے تک نیویارک کے علاقے کوئینز میں بظاہر عام زندگی گزارتا رہا۔ فلم ساز کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی دور آج کی انتہائی تقسیم شدہ دنیا کی عکاسی کرتا ہے۔
فلمی دنیا میں ایک بار پھر تاریخی موضوعات پر مبنی کہانیوں نے ہلچل مچا دی ہے، اور حالیہ ٹورانٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (TIFF) میں پیش کی جانے والی ایک نئی فلم نے ناظرین اور ناقدین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ یہ فلم ایک ایسے نازی ڈیتھ کیمپ گارڈ کی کہانی کو پردہ سکرین پر لاتی ہے جو جنگ عظیم دوم کے بعد برسوں تک امریکہ کے شہر نیویارک کے علاقے کوئینز میں انتہائی خاموشی اور رازداری کے ساتھ زندگی گزارتا رہا اور قانون کی گرفت سے بچا رہا۔ اس سنسنی خیز اور حقیقت پسندانہ کہانی پر مبنی پروجیکٹ نے سنیما کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے۔ فلم کے ہدایت کار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کا یہ تاریخی ڈراما محض ماضی کے کسی واقعے کا احاطہ نہیں کرتا، بلکہ یہ آج کی موجودہ اور شدید طور پر تقسیم شدہ دنیا کی ہولناک عکاسی بھی کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جس طرح ماضی میں معاشرتی نفرتیں اور تعصبات پروان چڑھے تھے، اسی طرح کے رجحانات آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھے جا رہے ہیں، جو کہ انسانیت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ فلم میں اس دور کی تاریکی اور ایک مجرم کی ذہنی کشمکش کو انتہائی گہرائی کے ساتھ دکھایا گیا ہے تاکہ ناظرین تاریخی حقائق کا ادراک کر سکیں۔ اس فلم کے حوالے سے اداکاری کے جوہر دکھانے والے اداکاروں اور بالخصوص معروف اداکارہ نومی واٹس کے حوالے سے بھی چرچے ہیں، جنہوں نے اپنے کیریئر کے اس نئے اور منفرد دور کو 'ویلن ایرا' قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سنجیدہ اور تاریخ کے تاریک پہلوؤں کو چھونے والی فلمیں نہ صرف ناظرین کی تاریخی معلومات میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ انہیں انسانی نفسیات کے مکروہ چہروں کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ فلم کی نمائش کے بعد سے ہی اس کے موضوع اور کہانی پر عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔