World
روس کا یوکرین میں ٹرین پر حملہ، بورس جانسن کا ردعمل
روس نے یوکرین کے ریلوے اسٹیشن کو اس وقت نشانہ بنایا جب سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور دیگر اعلیٰ یورپی رہنما وہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد عالمی رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور روسی اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔
ماسکو: روس نے یوکرین کے ایک ریلوے اسٹیشن پر اس وقت فضائی یا میزائل حملہ کر دیا جب سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور دیگر کئی سرکردہ یورپی رہنما وہاں سے بخیر و عافیت روانہ ہو چکے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں یوکرین کی ایک کھڑی ہوئی ٹرین کو نشانہ بنایا گیا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مغربی رہنماؤں نے روسی عسکری جارحیت کی کڑے الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اس واقعے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کون سی مسخ شدہ سوچ یا جنگی جنون تھا جس کے تحت روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پولینڈ کے قریب واقع سرحدی علاقے میں کھڑی ہوئی یوکرین کی ایک ٹرین کو بم سے اڑا دیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو بلاجواز اور عام شہریوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس بات کا غاس تھا کہ روس یوکرین کے بنیادی ڈھانچے بالخصوص ریلوے اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو مفلوج کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں یوکرینی حکام نے سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھائے تاکہ اہم شخصیات اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے.