World
پورٹسماؤتھ ہنگامہ آرائی: پولیس کو چھ افراد کی تلاش
برطانوی پولیس نے پورٹسماؤتھ کے علاقے میں تارکین وطن کے خلاف ہونے والے پرتشدد احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے سلسلے میں چھ افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات کے دوران متعدد افراد کی تصاویر جاری کی ہیں تاکہ ان کی شناخت میں مدد مل سکے۔
برطانیہ کے علاقے پورٹسماؤتھ میں حالیہ مہاجر مخالف احتجاج اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی بدنظمی کے معاملے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی کارروائی تیز کر دی ہے۔ مقامی پولیس کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق، چھ ایسے افراد کی تلاش جاری ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ گزشتہ ماہ کے اوائل میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں براہ راست ملوث تھے۔ پولیس حکام کا ماننا ہے کہ ان افراد سے پوچھ گچھ کرنے سے واقعے کے محرکات اور پس منظر کو سمجھنے میں اہم مدد ملے گی۔
یہ سارا واقعہ 6 ستمبر کو ایسٹنی مرینا (Eastney Marina) کے قریب پیش آیا تھا جہاں تارکین وطن کی آمد کے خلاف ایک مظاہرہ اچانک بدنظمی کی شکل اختیار کر گیا۔ مظاہرے کے دوران شرپسندوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر دباؤ ڈالا گیا اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس پر قابو پانے کے لیے پولیس کو اضافی نفری طلب کرنا پڑی تھی۔ پولیس فورس نے اس واقعے کے بعد سے ہی ایک جامع تحقیقاتی عمل کا آغاز کر رکھا ہے تاکہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔
تفتیشی ٹیموں نے عوام اور میڈیا کی مدد حاصل کرنے کے لیے اس دن کی فوٹیج سے چند تصاویر بھی جاری کی ہیں جن میں ان چھ مشتبہ افراد کے چہرے واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ ان میں سے کسی بھی فرد کو پہچانتے ہیں یا ان کے بارے میں کوئی بھی مصدقہ معلومات رکھتے ہیں تو وہ فوری طور پر پولیس سے رابطہ کریں۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ اطلاع دینے والے کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا تاکہ وہ کسی بھی پریشانی سے محفوظ رہ سکیں۔
پورٹسماؤتھ کی اس صورتحال پر مقامی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کے حلقوں کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن قانون شکنی، تشدد اور نفرت انگیز کارروائیوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ قانون کی بالادستی قائم رکھی جائے اور اس نوعیت کے واقعات میں ملوث تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔