World
فرانس ٹیلی ویژن کا متنازعہ اقدام، غزہ پر بیان دینے والی اداکارہ کا شو ہٹا دیا گیا
فرانسیسی نشریاتی ادارے نے اداکارہ ایڈیل ہینیل کی جانب سے غزہ میں مبینہ نسل کشی کے خلاف بیان دینے کے بعد ایک شو کا ری پلے ہٹا دیا ہے۔ اس اقدام پر آزادی اظہار رائے کے حوالے سے ملک میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
فرانس کے سرکاری نشریاتی ادارے 'فرانس ٹیلی ویژن' نے ایک معروف پروگرام کا ری پلے اس وقت ہٹا دیا جب ایک مشہور فرانسیسی اداکارہ نے شو کے دوران غزہ میں جاری صورتحال پر کھل کر بات کی اور اسے نسل کشی قرار دیا۔ اس واقعے نے میڈیا میں سنسرشپ اور آزادی اظہار رائے کے حوالے سے ایک بار پھر شدید بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ نشریاتی اداروں کی جانب سے اس طرح کے اقدامات سے نا صرف معلومات کی ترسیل متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید ردعمل سامنے آتا ہے۔
واضح رہے کہ اداکارہ ایڈیل ہینیل فرانسیسی فلمی دنیا میں اپنی بے باک رائے اور سماجی و سیاسی امور پر کھل کر بولنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے حالیہ پروگرام میں شرکت کے دوران غزہ کے نہتے عوام پر ہونے والے مظالم اور انسانی بحران کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی۔ ان کے ان بیانات کے بعد نشریاتی ادارے کے منتظمین نے فوری طور پر عمل کرتے ہوئے اس پروگرام کے ری پلے کو آن لائن پلیٹ فارمز اور ٹیلی ویژن آرکائیوز سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔
اداکارہ کے حامیوں اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے فرانس ٹیلی ویژن کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا اداروں کو سیاسی دباؤ یا حساس موضوعات پر کھل کر بات کرنے سے روکنے کے لیے سنسرشپ کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ دوسری جانب، ادارے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پروگرام کے مواد اور نشریاتی ضوابط کے تحت کیا گیا تھا تاکہ نشریاتی اصولوں کو برقرار رکھا جا سکے۔
اس پورے معاملے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ مغربی میڈیا میں مشرق وسطیٰ اور بالخصوص غزہ کے تنازع پر بات کرنا کس قدر حساس اور مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف فنکار اور دانشور اپنے ضمیر کے مطابق آواز اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بڑے میڈیا ہاؤسز پر دباؤ کی فضا برقرار ہے۔ آنے والے دنوں میں اس واقعے کے اثرات فرانسیسی میڈیا اور فنکار برادری پر مزید گہرے ہونے کا امکان ہے۔