World
نئی دہلی میں برکس اجلاس کا اختتام، عالمی رہنماؤں کے درمیان اہم مذاکرات
برکس سربراہی اجلاس کے آخری روز عالمی رہنما نئی دہلی میں ایک بار پھر جمع ہوئے جہاں ایران اور یوکرین کی جنگوں پر پائے جانے والے شدید اختلافات زیر بحث آئے۔ اجلاس کے دوران دنیا کے اہم اقتصادی و سیاسی معاملات پر طویل بات چیت کا سلسلہ جاری رہا۔
نئی دہلی میں جاری برکس سربراہی اجلاس اپنے آخری روز میں داخل ہو چکا ہے جہاں دنیا بھر کے اہم رہنما ایک بار پھر ایک چھت کے نیچے جمع ہوئے ہیں۔ اس اہم اجتماع کے دوران عالمی سطح پر جاری کشیدگی، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں ایران کی صورتحال اور یوکرین کی جنگ کے حوالے سے پائے جانے والے گہرے اختلافات پر کھل کر بات چیت کی گئی۔ مبصرین کے مطابق، یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب عالمی سیاست دو حصوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے اور رکن ممالک کے درمیان اہم جیو پولیٹیکل امور پر متفقہ لائحہ عمل طے کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
اجلاس کے آخری روز کے ایجنڈے میں معاشی تعاون، تجارت اور بین الاقوامی سلامتی جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ شریک ممالک کے سربراہان نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیر جہتی سفارت کاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ تاہم، ایران اور یوکرین کے تنازعات پر مختلف ممالک کے مؤقف میں پائے جانے والے تضادات نے مشترکہ اعلامیے کی تیاری کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ چند رہنماؤں نے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا جبکہ دیگر نے اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحت آراء کا اظہار کیا۔
نئی دہلی میں منعقدہ اس سربراہی اجلاس کی میزبانی کے دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ برکس بلاک جو کہ اب دنیا کی ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے، عالمی نظام میں اپنی اہمیت کو تسلیم کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ اگرچہ حالیہ تنازعات نے اس کے اندرونی اتحاد کو آزمائش میں ڈال دیا ہے، لیکن تمام فریقین کا ماننا ہے کہ باہمی تعاون کے بغیر عالمی معیشت کا استحکام ممکن نہیں۔
اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے جس میں علاقائی امن، پائیدار ترقی اور مالیاتی نظام میں اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔ تجزیہ کار اس اجلاس کو عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن اور مستقبل کی سفارتی سمت کے تعین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ دنیا بھر کی نگاہیں نئی دہلی میں ہونے والے ان فیصلوں پر مرکوز ہیں جو آنے والے دنوں میں بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔