LIVE
Loading Breaking News...

حوثی قبضہ اور باب المندب: بحیرہ احمر کے ممالک کے لیے چیلنجز

News Image
حوثیوں کی جانب سے آبنائے باب المندب کے کنٹرول نے نہر سویز کی آمدنی کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے خطے میں مہاجرین کے سیلاب اور سیکیورٹی کے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے پر کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب حوثی فورسز نے آبنائے باب المندب پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا۔ اسٹریٹجک لحاظ سے اس انتہائی اہم گزرگاہ پر حوثیوں کی گرفت نے نہر سویز کی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے ایک دھچکا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی رس رسد کے سلسلے میں تاخیر اور اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ تجارتی جہاز رانی متاثر ہونے سے دنیا بھر میں اشیا کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب اس بحران کے گہرے انسانی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ علاقے میں جاری عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے مہاجرین کی نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے پڑوسی ممالک پر پناہ گزینوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ علاقائی حکومتیں اس انسانی المیے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ اس پورے منظرنامے نے خطے میں موجود سیکیورٹی کے دیرینہ خلاء کو بھی واضح کر دیا ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک اس پیش رفت کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک براہ راست خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی برادری نے اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو صورتحال مزید قابو سے باہر ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و تجارت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔