Pakistan
پنجاب حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے تحت تمام عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی
محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے میں دہشت گردی کے خطرات اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ یہ پابندی 17 ستمبر تک جاری رہے گی جس کے دوران عوامی اجتماعات اور اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی۔
لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ممکنہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے سنگین خطرات کے پیش نظر تمام اقسام کے عوامی اجتماعات پر 17 ستمبر تک مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 144 کے تحت نافذ کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے موصول ہونے والی قابلِ یقین اطلاعات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جن میں بتایا گیا تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں اور دشمن ایجنسیاں صوبے میں امن عامہ کو تباہ کرنے کی سازش کر رہی ہیں۔
محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو متعدد الرٹس موصول ہوئے ہیں جن کے مطابق دہشت گرد بڑے عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کے لیے خودکش حملہ آوروں، بارود سے بھری گاڑیوں اور ٹارگٹ کلنگ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات اور دھرنے دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف ثابت ہو سکتے ہیں، جس سے معاشرتی بدنظمی اور افراتفری پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔ صوبائی پولیس سربراہ، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر یہ حفاظتی اقدامات فوری طور پر اٹھائے گئے ہیں۔
اس پابندی کے تحت 13 ستمبر سے 17 ستمبر تک کسی بھی عوامی مقام، سڑک، شاہراہ اور کھلے میدان میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔ تاہم اس پابندی سے شادی کی تقریبات، جنازے، مساجد میں نماز، عدالتیں اور سرکاری تقریبات کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے اسلحے کی نمائش اور لے جانے پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، البتہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اپنی سرکاری ڈیوٹی کے دوران اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا۔ سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے اس ماحول میں حکومت کی جانب سے نافذ کی جانے والی یہ پابندیاں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔