LIVE
Loading Breaking News...

جسٹس عائشہ ملک کو ویانا میں انٹرنیشنل لیڈر ایوارڈ مل گیا

News Image
سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کو قانون اور انصاف کے شعبے میں گراں قدر خدمات پر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ جسٹیا ایوارڈز کے دوران انٹرنیشنل لیڈر لائف ٹائم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ اس اعزاز کا مقصد خواتین کے حقوق، برابری اور قانونی پیشے میں ان کی مؤثر شمولیت کے لیے ان کی طویل جدوجہد کو سراہنا ہے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جج جسٹس عائشہ ملک کو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ باوقار 'جسٹیا ایوارڈز 2026' کے دوران 'انٹرنیشنل لیڈر/لائف ٹائم ایوارڈ' سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں قانون اور انصاف کے شعبے کی ترقی میں ان کی نمایاں خدمات اور برابری، انسانی حقوق اور انصاف کے اداروں میں خواتین کی مؤثر شمولیت کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ ویانا میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ججوں، وکلا اور قانونی ماہرین کی موجودگی میں دیے جانے والے اس ایوارڈ نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اعلیٰ عدالتی عہدوں پر خواتین کی موجودگی قانونی دلیل، ادارہ جاتی روایات اور قانون کی ترویج پر کس قدر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ویانا کے دورے کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے 'ویمن ان لا کانفرنس 2026' میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے 'روڈ میپ ٹو ایکولٹی اینڈ ویمنز رائٹس ان پریکٹس' کے عنوان سے ہونے والے سیشن سے کلیدی خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا احاطہ کیا جس میں 2012 میں لاہور ہائی کورٹ میں تقرری سے لے کر 2022 میں سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے تک کے سنگ میل شامل ہیں۔ انہوں نے ایک خاتون جج کے طور پر خدمات انجام دینے کے دوران پیش آنے والے چیلنجز، مواقع اور قانونی فیصلوں میں صنفی نقطہ نظر کو شامل کرنے کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ان کا کہنا تھا کہ برابری کا حصول محض کاغذی ضمانتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا تعلق اس پس منظر سے ہے جس میں خواتین قانون کا سامنا کرتی ہیں اور اس سے واسطہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عدالتی اداروں اور قانونی اصولوں کو خواتین کی حقیقی زندگی کے حقائق کا مؤثر جواب دینا چاہیے اور انہوں نے اپنی جج کی حیثیت سے وقار، مساوات اور نظامِ انصاف میں خواتین کے ساتھ برتاؤ سے متعلق اپنے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔ پاکستان کی نمائندہ تنظیم 'ویمن ان لا' نے اس کامیابی کو پاکستان کے لیے ایک فخر کی علامت قرار دیا ہے اور بتایا کہ جسٹس عائشہ ملک جسٹیا ایوارڈ حاصل کرنے والی تیسری پاکستانی خاتون ہیں۔ اس سے قبل 2023 میں انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر اور ایڈووکیٹ ندا عثمان چوہدری بھی یہ اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔