LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں کشتی الٹنے کا حادثہ، 6 ہلاک اور 129 لاپتہ

News Image
انڈونیشیا کے ساحل کے قریب تیز لہروں کی وجہ سے ایک مسافر کشتی الٹ گئی جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 129 لاپتہ ہوگئے۔ ریسکیو اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے 108 افراد کو زندہ بچا لیا ہے جبکہ تلاش کا عمل جاری ہے۔
انڈونیشیا کے ساحل کے قریب تیز لہروں کی لپیٹ میں آکر ایک بڑی مسافر فیری الٹ گئی جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 129 لاپتہ ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ اب تک 108 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔ یہ حادثہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب ویرگو ٹرانسپورٹ 8 نامی فیری مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے روانہ ہونے کے بعد خراب موسم اور بلند لہروں کی زد میں آگئی۔ فیری پر مجموعی طور پر 213 مسافر اور 30 ​​عملے کے ارکان سوار تھے۔ حادثے کے ایک زندہ بچ جانے والے مسافر نے خوفناک مناظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر مسافر گہری نیند میں تھے جب رات کے وقت جہاز نے ایک طرف جھکنا شروع کیا۔ مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، لوگ ایک دوسرے کو دھکیلنے لگے اور جان بچانے کے لیے لائف جیکٹس کی تلاش شروع کر دی گئی۔ جہاز کا عملہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت وارننگ جاری کرنے میں ناکام رہا۔ مسافروں کے مطابق سمندر میں دو میٹر سے زائد بلند لہریں اٹھ رہی تھیں اور جہاز کا رابطہ شپنگ کمپنی سے منقطع ہو چکا تھا، جس کے بعد جہاز نے الٹنا شروع کیا۔ انڈونیشیا کے قومی تلاش اور بچاؤ ادارے بسارناس کے مطابق، ریسکیو اہلکاروں نے انتہائی کٹھن حالات میں ڈھائی میٹر تک بلند لہروں کا مقابلہ کرتے ہوئے آپریشن کیا۔ امدادی کارروائیوں میں دو ہیلی کاپٹرز کے علاوہ بحریہ، پولیس اور فیری کمپنی کے جہاز بھی حصہ لے رہے ہیں۔ بچائے گئے مسافروں کو بورنیو جزیرے کے جنوبی ساحل پر واقع بنجارماسین پورٹ پہنچایا گیا جہاں ایمبولینسز اور پیرامیڈیکس کا عملہ پہلے سے موجود تھا۔ بنجارماسین پورٹ پر لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے بے تاب دکھائی دیے۔ واضح رہے کہ 17 ہزار سے زائد جزیروں پر مشتمل ملک انڈونیشیا میں سمندری راستے نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہیں، جہاں سستے سفر کے لیے بڑی تعداد میں لوگ فیریوں کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، حفاظتی معیارات کی کمی اور غیر متوقع موسمی حالات کی وجہ سے اس خطے میں سمندری حادثات معمول بن چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام افراد کا سراغ نہیں مل جاتا۔