LIVE
Loading Breaking News...

دبئی اور ایران کے معاشی تعلقات: پابندیوں کے باوجود تجارت جاری

News Image
مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور اماراتی حکومت کی جانب سے تجارت معطل کرنے کے اعلان کے باوجود دبئی میں ایرانی تاجروں کا کاروبار بدستور جاری ہے۔ پرانے دبئی کے بازاروں میں زعفران، پستہ اور بادام جیسی ایرانی اشیاء اب بھی دستیاب ہیں کیونکہ دونوں خطوں کے درمیان دہائیوں پرانے تجارتی روابط کو توڑنا آسان نہیں۔
پرانے دبئی کے روایتی بازاروں میں ایرانی زعفران، زیرہ، پستہ اور بادام سے بھری دکانیں اب بھی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ خلیج کے دونوں کنارے جاری علاقائی تنازع کے باوجود ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے تہران کے ساتھ تجارت اور مالیاتی تبادلے معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن دبئی کے پرانے تجارتی مرکز میں قائم ایرانی تاجروں کا ماننا ہے کہ دونوں خطوں کے درمیان دہائیوں پرانے تعلقات کو اتنی آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے کچھ ایرانی مصنوعات کی رسد ضرور متاثر ہوئی ہے اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم روایتی اشیاء اب بھی منڈی میں موجود ہیں۔ بر دبئی میں خاندانی گروسری اسٹور چلانے والے مرتضیٰ اسعدی کا کہنا ہے کہ سامان کسی نہ کسی طرح دبئی پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح ایک اور تاجر یاسر کی زعفران کی دکان پر مشہد سے فضائی راستے کے ذریعے مصالحے کی آمد دوبارہ بحال ہو چکی ہے۔ عمانی بندرگاہوں اور دیگر متبادل ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے بعض تاجر اب بھی ایران سے سامان درآمد کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی میں مقیم بڑی ایرانی کمیونٹی نے ماضی میں بھی کئی بحرانوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور وہ ابوظہبی کے حکام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان تجارت خطے کی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ عالمی تجارت کی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں متحدہ عرب امارات ایران کے لیے درآمدات کا سب سے بڑا مرکز تھا اور مجموعی طور پر اکیس ارب ڈالر سے زائد کی درآمدات یو اے ای کے راستے ہوئیں جبکہ امارات تہران کا تیسرا بڑا خریدار بھی تھا۔ البتہ واشنگتن اور ابوظہبی کی جانب سے حالیہ اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کے نفاذ کے بعد حالات میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اماراتی حکومت کا یہ اعلان تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے اور امریکہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ہے، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ نجی سطح پر قائم گہرے تجارتی روابط راتوں رات منقطع نہیں کیے جا سکتے اور اس سے معیشت پر منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔