Sports
پاکستانی کرکٹ کا زوال: انگلینڈ کے خلاف شکست اور اندرونی بحران
انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں تین صفر کی عبرتناک شکست اور اندرونی ہنگامہ آرائی کے بعد پاکستانی کرکٹ تاریخ کے نچلے ترین درجے پر پہنچ گئی ہے۔ لیجنڈری کھلاڑیوں اور ماہرین نے ناقص نظام اور مستقل مزاجی کے فقدان کو اس زوال کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
انگلینڈ کے دورے پر تین صفر کی ہزیمت آمیز وائٹ واش نے پاکستانی کرکٹ کو ایک ایسے نئے زوال سے دوچار کر دیا ہے جہاں سے واپسی کا سفر انتہائی دشوار دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ ڈیبیو کرنے والے نوجوان کھلاڑی رضا اللہ کی شاندار اننگز نے اس مایوس کن دورے کے اختتام پر امید کی ایک ہلکی سی کرن ضرور دکھائی، تاہم مجموعی طور پر یہ دورہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوگا۔ اس تباہ کن کارکردگی کے بعد ٹیم میں یکسر تبدیلیاں کی گئیں جن میں ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو ان کے عہدوں سے ہٹانا بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا کیونکہ بلے بازی کا شعبہ اس حد تک کمزور ثابت ہوا کہ ٹیم چھ میں سے پانچ اننگز میں دو سو رنز کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکی۔ وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کو تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے لیے ذمہ داری سونپی گئی لیکن وہ بھی ٹیم کی تقدیر بدلنے میں ناکام رہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب بعض برطرف شدہ کھلاڑیوں کے خلاف سائبر کرائم ایجنسی نے مبینہ طور پر ٹیم کی اندرونی معلومات لیک کرنے پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ سابق کپتان وسیم اکرم نے اس زوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے پچھلے پانچ سالوں سے آتے دیکھ رہے تھے اور اس کی ذمہ داری کسی ایک فرد پر عائد نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ ایک اور سابق سٹار شاہد آفریدی نے بھی اس صورتحال کو انتہائی تاریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کرکٹ میں کھلاڑیوں کی عزت نہیں کی جا رہی اور سسٹم مضبوط نہیں ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو شکست کے بعد ٹیم میں سرجری اور تبدیلیوں کا عمل پاکستان کے لیے نیا نہیں ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران ٹیم تین مختلف کپتانوں اور چھ ہیڈ کوچز کا سامنا کر چکی ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی اتنے ہی عرصے میں پانچ مختلف چیئرمین آئے ہیں جس کی وجہ سے پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان رہا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن میں کھیلا گیا تیسرا ٹیسٹ میچ گزشتہ اکیس میچوں میں پاکستان کی سولہویں شکست تھی جس کے بعد ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کیٹیگری میں نویں اور آخری نمبر پر چلی گئی ہے۔ وائٹ بال کرکٹ کی صورتحال بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے جہاں ٹیم چیمپئینز ٹرافی کے پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو گئی تھی اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی مایوس کن کارکردگی دیکھنے میں آئی تھی۔ سابق لیگ اسپنر اور نائنٹی ٹو کے ورلڈ کپ ہیرو مشتاق احمد نے اس زوال کی بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی اور گراس روٹ سطح پر کمزور نظام کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے پاس میچ ونرز موجود تھے اس لیے ہم کامیاب رہے لیکن اب زوال انتہائی گہرا ہے جسے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ شائقین کرکٹ کا جوش و خروش بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے اور لوگ اب کھیل سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ کرکٹ کے حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر پاکستانی کرکٹ کو اس دلدل سے نکالنا ہے تو عارضی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی اور سخت اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ ٹیم کو اس کے پرانے شاندار مقام پر واپس لایا جا سکے۔