World
ال نینو 2026: سمندری درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اور سائنسدانوں کی تشویش
بحر الکاہل کے استوائی خطے میں سمندری سطح کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے جس سے ایک طاقتور ال نینو کی تشکیل جاری ہے۔ اس غیر معمولی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور پیشگوئیوں پر عالمی ماہرینِ موسمیات گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
بحر الکاہل کے استوائی خطے میں سمندری سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جہاں ایک طاقتور اور غیر معمولی ال نینو تیزی سے تقویت پکڑ رہا ہے۔ موسمیاتی ماہرین اور سائنسدان اس صورتحال پر حیرت زدہ ہیں اور اس کے عالمی موسم پر پڑنے والے اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق سمندر کا یہ غیر معمولی گرم ہونا آنے والے مہینوں میں دنیا بھر کے موسمیاتی نظام کو یکسر بدل سکتا ہے، جس سے سردیوں کے دوران شدید برفباری اور موسمی شدت کے نئے ریکارڈ قائم ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا دنیا کے روایتی موسمیاتی ماڈلز اس اچانک اور شدید تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ موسم کی پیشگوئی کرنے والے اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ اس سپر ال نینو کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کا دائرہ کار عالمی سطح پر محسوس کیا جائے گا۔ کسانوں، معیشت دانوں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے والے اداروں کو بھی اس ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی موسمیاتی رجحان کے محرکات کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے خطرات سے پہلے ہی نبرد آزما ہوا جا سکے۔ اس وقت تمام تر توجہ بحر الکاہل کے درجہ حرارت پر مرکوز ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گرم ہوتا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔