World
برکس ممالک میں ٹیکنالوجی تعاون: چینی صدر شی جن پنگ کا اہم بیان
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین برکس ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے قیادت کا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے برکس بلاک کے معاشی تعلقات کو وسعت دینے اور عالمی سطح پر اس کے بڑے کردار کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ چین برکس (BRICS) ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھرپور قیادت کا کردار ادا کرے گا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اقتصادی اور تکنیکی میدان میں اتحاد کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر شی جن پنگ کا ماننا ہے کہ برکس بلاک کو وسعت دے کر اور اس کے معاشی تعلقات کو مستحکم کرکے عالمی معیشت میں اس کا کردار مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔ برکس سربراہی اجلاس کے دوران چین کے اس عزم کو خطے اور دنیا بھر میں تکنیکی ترقی کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس کے دوران دیگر اہم عالمی امور بشمول مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام میں برکس کے کردار اور بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اشتراک سے ترقی پذیر ممالک کو ڈیجیٹل دور میں آگے بڑھنے کے لیے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔ چین اور دیگر برکس ممالک کے مابین اس تعاون سے نہ صرف معاشی روابط مضبوط ہوں گے بلکہ سائنسی تحقیق اور جدید ایجادات کے میدان میں بھی نئے دروازے کھلیں گے۔