LIVE
Loading Breaking News...

سعودی وزیر خارجہ کا بیان: مملکت کی سلامتی ناقابلِ تسخیر ہے

News Image
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے برکس اجلاس کی سائیڈ لائنز پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی قومی سلامتی اور وسائل کسی بھی صورت قابلِ مذاکرات نہیں۔ انہوں نے علاقائی استحکام کے لیے خلیجی ریاستوں کی خودمختاری اور آزادی کا احترام لازمی قرار دیا۔
ریاض: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک بار پھر دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ مملکتِ سعودی عرب کی قومی سلامتی اور اس کے وسائل ہر قسم کے کالم سے بالاتر ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ناممکن ہے۔ برکس (BRICS) سربراہی اجلاس کے موقع پر علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خلیجی خطے کی سلامتی اور استحکام کا دارومدار خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، آزادی اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہے۔ برکس اجلاس کی سائیڈ لائنز پر بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران شہزادہ فیصل بن فرحان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے سدباب کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سعودی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں مختلف سطح پر اسٹریٹجک تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب نے ہمیشہ خطے میں امن اور سلامتی کو اولین ترجیح دی ہے، تاہم مملکت نے اپنے دفاع اور خودمختاری کے معاملے پر ہمیشہ واضح لکیر کھینچی ہے۔ شہزادہ فیصل کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کی سلامتی اس وقت تک مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک تمام بیرونی یا اندرونی عناصر خطے کے ممالک کے فیصلوں، آزادی اور سرحدوں کا احترام نہیں کرتے۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعاون کی بھی تعریف کی گئی تاکہ خطے کے درپیش چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ برکس پلیٹ فارم پر اس نوعیت کے دوطرفہ اور کثیر الجہتی مذاکرات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ سعودی عرب اب بین الاقوامی سطح پر اپنی معاشی طاقت کے ساتھ ساتھ سفارتی اثر و رسوخ کو بھی خطے کے امن و استحکام کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اتحاد برکس کے اراکین کے ساتھ سعودی قیادت کے رابطے اس عزم کا اعادہ ہیں کہ مملکت کسی بھی جارحیت یا خطرے کے سامنے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ آخر میں، سعودی وزیر خارجہ نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ خطے کے پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دیا جائے، لیکن اس عمل میں کسی بھی ملک کی خودمختاری کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سعودی عرب کا یہ مستقل اور دوٹوک مؤقف نہ صرف اس کی اندرونی و خارجی پالیسی کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ خلیجی خطے میں امن کے خواہاں تمام ممالک کے لیے ایک مضبوط پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔