AI
اینتھروپک کے سربراہ کا بیان، چین اے آئی کی ترقی میں سب سے بڑا مخمصہ
مصنوعی ذہانت کی ترقی کو سست کرنے کی تجویز پر بات کرتے ہوئے اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو امودی نے کہا ہے کہ چین کا عنصر اس معاملے میں سب سے مشکل اور پیچیدہ چیلنج پیش کرتا ہے۔ عالمی سطح پر اے آئی کی رفتار کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے ماہرین اور صنعت کے قائدین کے درمیان بحث جاری ہے۔
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو امودی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو سست کرنے یا اس پر قابو پانے کی جو تجاویز پیش کی جا رہی ہیں، ان کے لیے چین سب سے بڑا اور کٹھن ترین مخمصہ ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اے آئی ٹیکنالوجی کی اندھا دھند دوڑ اور اس کے ممکنہ خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی متعدد ٹیک رہنما اور محققین اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو عارضی طور پر روکا جانا چاہیے تاکہ اس کے خطرات کا اندازہ لگایا جا सके۔
ڈاریو امودی کے مطابق، اگر دنیا کے ایک حصے میں اے آئی کی ترقی کو سست کرنے کے اقدامات کیے بھی جائیں، تو جغرافیائی سیاسی مسابقت اور خصوصاً چین کی موجودگی اس عمل کو انتہائی پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی کی سرد جنگ کے اس دور میں کوئی بھی ایک فریق تنہا ترقی کی اس دوڑ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے دوسری طاقت کو اسٹریٹجک برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ضابطہ اخلاق طے کرنا اور رفتار کو کنٹرول کرنا ایک ناقابلِ تسخیر چیلنج بن چکا ہے۔
دوسری جانب، حال ہی میں اے آئی انڈسٹری کے اندر سے بھی تحفظات کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ کچھ محققین اور ماہرین نے انسانیت کو درپیش خطرات کے پیش نظر اپنے عہدوں سے استعفیٰ بھی دیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اب قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ اوپن اے آئی کے سربراہ اور ایلون مسک جیسے سرکردہ نام بھی پہلے اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ انتہائی خطرناک اور حد سے بڑھی ہوئی اے آئی کی ترقی پر بریک لگائی جانی چاہیے تاکہ انسانیت کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہ کیا گیا، تو بے لگام مصنوعی ذہانت نہ صرف معاشی بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اینتھروپک کے سربراہ کا یہ بیان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ دوڑ صرف تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی اور عالمی طاقت کے توازن کا ایک انتہائی نازک موڑ بھی بن چکی ہے، جہاں احتیاط اور مسابقت کے درمیان توازن قائم کرنا سب سے بڑا امتحان ہے۔