LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی ترقی میں سست روی: کیا یہ ممکن ہے؟

News Image
مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو کم کرنے کے خیالات پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی آسان حل نہیں ہے۔ اس معاملے پر تکنیکی اور معاشی حلقوں میں گشوارے اور سوالات سامنے آ رہے ہیں۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا بھر میں انقلاب برپا کیا ہے، وہیں اس کی رفتار کو سست کرنے کے حوالے سے بھی سوالات اور بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ بہت سے حلقوں میں یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ آیا اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو کچھ عرصے کے لیے روکا یا سست کیا جانا چاہیے تاکہ اس کے ممکنہ خطرات کا اندازہ لگایا جا سکے اور مناسب ضابطہ اخلاق مرتب کیے جا سکیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی رفتار کو کم کرنا بظاہر ایک فوری حل معلوم ہو سکتا ہے لیکن یہ عمل انتہائی پیچیدہ اور مشکل ہے۔ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اس وقت دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیاں اورممالک ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک فریق کی طرف سے ترقی کو روکنے کا مطلب یہ ہوگا کہ دوسرے حریف اس میدان میں نمایاں برتری حاصل کر لیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر کوئی بھی ملک یا ادارہ اکیلے اس ٹیکنالوجی کی رفتار کو کم کرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، اس شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری اور معاشی فوائد بھی اس قدر زیادہ ہیں کہ ترقی کے پہیے کو اچانک روک دینا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف، اس ٹیکنالوجی سے وابستہ خطرات جیسے کہ سکیورٹی کے مسائل، ملازمتوں کے خاتمے کا خدشہ اور اخلاقی سوالات اپنی جگہ برقرار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اور پالیسی ساز اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ترقی کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے اس کے لیے سخت حفاظتی اصول اور ضابطے بنائے جائیں تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد بھی حاصل کیے جا سکیں اور اس کے منفی اثرات سے بھی بچا جا سکے، لیکن حتمی لائحہ عمل ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔