World
اسرائیلی فورسز کا فلسطینی صحافی علی الصمودی کے گھر پر چھاپہ
قابض اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں معروف فلسطینی صحافی علی الصمودی کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے مبینہ طور پر صحافی کے بیٹے پر شدید تشدد کیا اور گھر کے اندر توڑ پھوڑ کی۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے شورش زدہ شہر جنین میں قابض اسرائیلی فورسز نے ایک اور جارحانہ کارروائی کرتے ہوئے معروف فلسطینی صحافی علی الصمودی کے رہائشی گھر پر چھاپہ مارا ہے۔ مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد نے علی الصمودی کے گھر کا محاصرہ کیا اور زبردستی اندر داخل ہو گئے۔ گھر کے اندر تلاشی کے نام پر سامان کی توڑ پھوڑ کی گئی اور اس دوران مکینوں کو شدید ہراساں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، اس پرتشدد کارروائی کے دوران قابض فوجیوں نے صحافی علی الصمودی کے جوان بیٹے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں شدید کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد صحافتی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ علی الصمودی ایک جانی پہچانے فلسطینی صحافی ہیں جو طویل عرصے سے خطے کے حالات کو دنیا کے سامنے اجاگر کر رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ اسرائیلی فورسز کی جارحیت کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں وہ افسوسناک واقعہ بھی شامل ہے جس میں ان کی ساتھی اور معروف صحافی شیریں ابو عاقلہ کو شہید کیا گیا تھا۔ صحافتی تنظیموں نے اس تازہ ترین چھاپے اور اہل خانہ پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے پریس کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں صحافیوں اور ان کے خاندانوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اسرائیل کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد سچ کی آواز کو دبانا اور مظالم کو دنیا تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ اس واقعے کے بعد جنین میں فلسطینی شہریوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے جبکہ بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فلسطینی صحافیوں کے تحفظ کے لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھائے.