Sports
مانچسٹر ڈربی: ہالینڈ کے متنازع گول پر سٹی کی یونائیٹڈ پر فتح
مانچسٹر ڈربی کے انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں مانچسٹر سٹی نے 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے مانچسٹر یونائیٹڈ کو ایک گول سے ہرا دیا۔ میچ کا فیصلہ کن اور واحد گول ارلنگ ہالینڈ نے سکور کیا جو کہ کافی متنازع قرار پایا۔
انگلش فٹ بال کے سب سے بڑے اور کڑے مقابلوں میں شمار ہونے والے مانچسٹر ڈربی میں مانچسٹر سٹی نے ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے مانچسٹر یونائیٹڈ کو انتہائی سنسنی خیز اور سخت مقابلے کے بعد ایک کے مقابلے میں صفر گول سے شکست دے دی۔ اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں دونوں ٹیموں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے میں آیا جہاں شائقین فٹ بال کو کھیل کے ہر لمحے پر جوش و خروش کا سامنا رہا۔ میچ کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جنہوں نے شائقین کو اپنی نشستوں سے اٹھنے پر مجبور کر دیا۔
میچ کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ اس وقت آیا جب مانچسٹر سٹی کے مایہ ناز کھلاڑی فل فڈن کو ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔ فل فڈن کے باہر ہونے کے بعد مانچسٹر سٹی کی ٹیم کو میچ کے باقی ماندہ وقت میں دس کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترنا پڑا۔ اس صورتحال کے بعد مانچسٹر یونائیٹڈ کی ٹیم نے جارحانہ کھیل پیش کرنے کی کوشش کی اور سٹی کے دفاع پر دباؤ بڑھایا، تاہم سٹی کے کھلاڑیوں نے انتہائی ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالف ٹیم کے حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔
اس تمام تر مشکل صورتحال کے باوجود مانچسٹر سٹی کی فتح میں سب سے اہم کردار اسٹار اسٹرائیکر ارلنگ ہالینڈ نے ادا کیا۔ ہالینڈ نے شاندار انداز میں گول اسکور کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی جو آخر تک برقرار رہی۔ تاہم، ارلنگ ہالینڈ کا یہ گول فٹ بال کے حلقوں میں کافی تنازع کا شکار بن گیا ہے کیونکہ یونائیٹڈ کے حامیوں اور کچھ تجزیہ کاروں کی جانب سے اس گول کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود ریفری کا فیصلہ حتمی رہا اور سٹی نے اہم تین پوائنٹس حاصل کر لیے۔
اس فتح کے ساتھ ہی مانچسٹر سٹی نے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے جبکہ مانچسٹر یونائیٹڈ کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر میچ جیتنا مانچسٹر سٹی کی ٹیم کی مضبوطی اور کوچنگ کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مانچسٹر ڈربی کی یہ کہانی آنے والے دنوں میں بھی فٹ بال کے حلقوں میں زیر بحث رہے گی اور اس متنازع گول کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔