LIVE
Loading Breaking News...

AI Labs Exit Strategy: $80B Acquisitions vs Stalled IPOs

News Image
آرٹیفیشل انٹیلی جنس لیبز کے لیے مارکیٹ میں اخراج کے راستے دو حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں جہاں اربوں ڈالر کی حصولیاں تیزی سے ہو رہی ہیں۔ اس کے برعکس، آئی پی او کا شعبہ ت حال شدید مندی اور رکاوٹوں کا شکار ہے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی لیبز کے لیے مالیاتی منڈی میں اخراج کے راستے ایک بار پھر واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار اور مارکیٹ کے رجحانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ بڑی کمپنیاں اسٹاک مارکیٹ میں پبلک ہونے کے روایتی راستے یعنی آئی پی او کی بجائے بڑی کارپوریٹ حصولیوں کو ترجیح دے رہی ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگست اور ستمبر کے مخصوص ہفتوں کے دوران تقریباً اسی ارب ڈالر مالیت کی تین بڑی حصولیاں یا تو مکمل ہو چکی ہیں یا ان کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں، کسی بھی بڑی اے آئی لیب نے اسی عرصے کے دوران کامیابی کے ساتھ اپنا آئی پی او مکمل نہیں کیا۔ معروف لیبز جیسے کہ اینتھروپک کے حوالے سے بھی توقعات تھیں کہ ان کا روڈ شو شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گا، لیکن مجموعی طور پر آئی پی او کا پائپ لائن تاحال تعطل کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کے ضوابط، ریگولیٹری دباؤ اور سرمایہ کاروں کے احتیاطی رویے کی وجہ سے نئی کمپنیاں پبلک ایشوز جاری کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ اس کے برعکس، بڑی قائم شدہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور کارپوریٹ ادارے منہ مانگی قیمتیں دے کر ان ابھرتی ہوئی اے آئی لیبز کو خریدنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں تاکہ مارکیٹ میں اپنی برتری کو برقرار رکھا جا سکے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں انضمام اور حصولیوں کا یہ رجحان مزید تیز ہو سکتا ہے۔ جب تک آئی پی او کے لیے سازگار ماحول پیدا نہیں ہوتا، اسّی ارب ڈالر سے زائد کی یہ بڑی ڈیلز اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرمائے کا رخ اب براہ راست کارپوریٹ بائ آؤٹس کی طرف مڑ چکا ہے، جو مستقبل کی ٹیکنالوجی مارکیٹ کی سمت کا تعین کرے گا۔