Technology
سال 2030 تک 300 ملین افراد اے آئی کے ذریعے خریداری کریں گے
ایک نئی رپورٹ کے مطابق سال 2030 تک دنیا بھر میں تقریباً 300 ملین افراد خریداری کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ایجنٹس کا استعمال کریں گے۔ اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار بالغوں کے مقابلے میں نو جوانوں میں دوگنی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی دنیا میں ایک اور بڑا انقلاب آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جہاں ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 2030 تک دنیا بھر میں تین سو ملین سے زائد افراد اپنی روزمرہ کی خریداری کے تمام امور اے آئی ایجنٹس کے حوالے کر دیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین کو خود جا کر چیزیں منتخب کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ ان کے اے آئی اسسٹنٹس ان کی ترجیحات کے مطابق خودکار طریقے سے بہترین اشیاء کی تلاش اور خریداری مکمل کر لیں گے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات بتاتی ہیں کہ ای کامرس اور مرچنٹ انڈسٹری کو اس مستقبل کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع کرنا ہوں گی کیونکہ صارفین کا رویہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے میں نو عمر افراد یعنی ٹین ایجرز کا کردار سب سے آگے ہے۔ نو جوانوں میں اے آئی شاپنگ ایجنٹس کا استعمال بالغ افراد کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آنے والی نسل مکمل طور پر ڈیجیٹل اور خودکار نظاموں پر انحصار کرے گی۔ یہ رجحان مرچنٹس اور کاروباری اداروں کو بھی مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں تاکہ اے آئی سسٹمز کے ساتھ آسانی سے مطابقت پیدا کی جا سکے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف خریداری کا انداز یکسر بدل جائے گا بلکہ آن لائن کاروبار کے اصول بھی نئے سرے سے طے ہوں گے۔ کمپنیاں اب ایسے پلیٹ فارمز تیار کر رہی ہیں جو انسانوں کے بجائے اے آئی ایجنٹس کے ساتھ براہ راست بات چیت کر کے سودے بازی اور آرڈر کی تکمیل کو یقینی بنا سکیں۔ سال 2030 کا یہ ہدف اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض تفریح یا عام معلومات تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ انسانی معیشت اور روزمرہ کی زندگی کا ایک لازمی اور فیصلہ کن حصہ بنتی جا رہی ہے۔