Business
سعودی پائپ لائن بندش اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تازہ ترین صورتحال
سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس بندش سے عالمی تیل کی رسد کا بڑا حصہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت نمایاں اضافہ دیکھا گیا جب سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی اپنی ایک انتہائی اہم تیل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ قدم حالیe مبینہ ڈرون حملوں اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ اس پائپ لائن کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم روٹ کی بندش سے عالمی سطح پر تیل کی یومیہ رسد کا ایک بڑا تناسب متاثر ہو سکتا ہے جو کہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ سعودی حکام نے صورتحال پر قابو پانے اور پائپ لائن کی جلد از جلد بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد مشرق وسطیٰ میں توانائی کے ترسیلی راستوں کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز اور متبادل زمینی راستے عالمی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اس اضافے سے دنیا بھر میں مہنگائی کے نئے دباؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ سرمایہ کار بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔