Pakistan
پاکستان میں قدیم کشتی سازی کی روایت اور کاریگروں کا ہنر
پاکستان میں روایتی کشتی سازی کا فن صدیوں پرانا ہے جسے مقامی کاریگر آج بھی انتہائی مہارت کے ساتھ زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ہنر نہ صرف ملکی ثقافت کا عکاس ہے بلکہ دریائی اور سمندری سفر کی تاریخ میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔
پاکستان میں کشتی سازی کا فن صدیوں پرانا ہے جو ہمارے آبائی ورثے اور ثقافت کا ایک انتہائی اہم حصہ مانا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف ساحلی علاقوں اور دریائی پٹیوں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں یہ صنعت آج بھی کسی نہ کسی شکل میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ برقرار ہے۔ یہاں کے ماہر کاریگر جدید مشینی دور میں بھی اپنے آبا و اجداد کے بتائے ہوئے طریقوں اور ہاتھوں کی ہنر مندی پر انحصار کرتے ہوئے لکڑی کی شاندار اور مضبوط کشتیاں تیار کرتے ہیں۔
ان کشتیوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی لکڑی کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کیا جاتا ہے تاکہ وہ پانی کی سخت لہروں اور طوفانوں کا مقابلہ کر سکیں۔ کاریگر کئی ہفتوں اور مہینوں کی مسلسل محنت کے بعد تختوں کو تراش کر ایک خوبصورت اور پائیدار شکل دیتے ہیں۔ یہ روایتی کشتیاں نہ صرف مقامی ماہی گیروں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں بلکہ دریائے سندھ اور ساحلی علاقوں کی معیشت میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، جہاں مال برداری اور ماہی گیری کے لیے ان کا استعمال ناگزیر ہے۔
تاہم، جدید دور کے چیلنجز اور فائبر گلاس یا لوہے سے بنی جدید کشتیوں کے آنے کی وجہ سے یہ قدیم صنعت اس وقت کئی مالی مشکلات کا شکار ہے۔ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ اور ہنر مند نوجوان نسل کا اس پیشے سے منہ موڑنا اس روایت کے لیے بڑے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود، چند پرعزم خاندان اور کاریگر اب بھی اس فن کو زندہ رکھنے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں اس تاریخی ورثے سے ناآشنا نہ رہیں۔
حکومت اور ثقافتی اداروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس قدیم صنعت کی بقا کے لیے خصوصی اقدامات کریں گے۔ اگر روایتی کشتی سازوں کو مالی تعاون، بہتر اوزار اور بین الاقوامی سطح پر ان کے کام کی نمائش کے مواقع فراہم کیے جائیں تو نہ صرف یہ فن محفوظ ہو سکتا ہے بلکہ سیاحت کے شعبے کو بھی ایک نیا فروغ مل سکتا ہے۔