World
تہران اور مسقط کے مذاکرات ملتوی، علاقائی ڈپلومیسی متاثر
تہران اور مسقط کے مابین آبنائے ہرمز سے متعلق طے پانے والے اہم مذاکرات کو خطے میں وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت کے پیش نظر مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو وقتی طور پر سست روی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تہران اور مسقط کی قیادت نے باہمی مشاورت کے بعد اہم علاقائی مذاکرات کو فی الحال ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کے امور اور خطے میں استحکام لانے کے حوالے سے طے کیے گئے تھے، جنہیں اب علاقائی سطح پر ایک وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کی غرض سے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، بالخصوص جب خلیجی خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے نئی کوششیں جاری تھیں۔ عمان کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں تمام فریقین کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
دوسری جانب بحرین نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان آبنائے ہرمز کے موضوع پر ہونے والی ان مخصوص مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔ اس صورتحال نے سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ خطے کے تمام ممالک کی شرکت کے بغیر کسی بھی پائیدار نتیجے پر پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دریں اثنا نیویارک ٹائمز اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری موجودہ ڈپلومیسی کو ان رکاوٹوں کی وجہ سے وقتی تعطل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے امن کے حصول کی راہ میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔
ایرانی میڈیا ادارے تسنیم نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران اور عمان کے مابین پایا جانے والا باہمی فہم و فراست یا مفاہمت فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا ضمانت نہیں بنتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آبی گزرگاہ کو کھولنا یا اس سے متعلقہ امور کو طے کرنا ایک طویل اور محتاط سفارتی عمل کا متقاضی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک تمام علاقائی طاقتیں ایک میز پر بیٹھ کر متفقہ لائحہ عمل تیار نہیں سکتیں، تب تک اس قسم کے مذاکرات کے حتمی نتائج حاصل کرنا ناممکن رہے گا، اور تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔