LIVE
Loading Breaking News...

بوش اینڈ لومب کے سی ای او کا مصنوعی ذہانت پر اہم بیان

News Image
مصنوعی ذہانت کے بارے میں موجودہ دور کا ہیجان دراصل ماضی کی تکنیکی تبدیلیوں کی طرح ہی ایک فطری ارتقاء ہے۔ کاروباری دنیا اس سے پہلے بھی کئی بڑے تکنیکی انقلاب دیکھ چکی ہے اور ان سے کامیابی سے نبردآما رہی ہے۔
عالمی شہرت یافتہ صحت اور ادویات کی کمپنی بوش اینڈ لومب (Bausch & Lomb) کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے گرد آج جو خوف، ہیجان اور ہنگامہ برپا ہے، وہ درحقیقت کاروباری دنیا کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت اے آئی پر اس انداز میں بحث کی جارہی ہے جیسے کاروبار نے تاریخ میں کبھی کوئی تکنیکی تبدیلی یا انقلاب دیکھا ہی نہ ہو۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور ہر آنے والی نسل اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی ایسا بڑا تکنیکی بریک تھرو لے کر آتی ہے جو کمپنیوں کے کام کرنے کے انداز کو یکسر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی صنعتوں میں کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی، تو اس سے وابستہ خطرات اور خدشات کا اظہار بھی لازمی طور پر کیا گیا۔ صنعتی انقلاب سے لے کر کمپیوٹر کے دور تک اور پھر انٹرنیٹ کی آمد سے لے کر کلاؤڈ کمپیوٹنگ تک، ہر دور میں کاروباری رہنماؤں کو ایسے ہی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ موجودہ دور میں جنریٹو اے آئی اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ انسانی ملازمتیں ختم کر دے گی اور روایتی بزنس ماڈلز کو تباہ کر دے گی، لیکن تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تبدیلی بھی اسی ارتقائی عمل کا حصہ ہے جس سے کاروبار ماضی میں کامیابی کے ساتھ گزر چکے ہیں۔ سی ای او کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی کاروباری ادارے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی سے کس طرح ہم آہنگ ہوتا ہے۔ جو کمپنیاں وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے خود کو تبدیل کرتی ہیں، وہ مارکیٹ میں نہ صرف زندہ رہتی ہیں بلکہ ترقی بھی کرتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو ایک خوف کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے ایک طاقتور ٹول کے طور پر قبول کرنے کی ضرورت ہے جو پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور نئے مواقع تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری رہنماؤں کو اے آئی کے بارے میں غیر ضروری گھبراہٹ یا ہسٹریا کا شکار ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس، انہیں ایک منظم اور اسٹریٹجک انداز میں اس ٹیکنالوجی کو اپنے روزمرہ کے امور میں شامل کرنا چاہیے تاکہ طویل مدت میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے اور جدید دنیا کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔