LIVE
Loading Breaking News...

سویڈن انتخابات: دونوں سیاسی بلاکس میں سخت مقابلہ اور ایک نشست کی برتری

News Image
سویڈن میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد ابتدائی اور جزوی نتائج نے سیاسی صورتحال کو انتہائی دلچسپ بنا دیا ہے۔ الیکشن اتھارٹی کے مطابق بائیں بازو کا اپوزیشن بلاک ایک نشست کی معمولی برتری حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
سویڈن میں اتوار کے روز ہونے والے عام انتخابات کے بعد ملک کی سیاسی فضا میں سنسنی پھیل گئی ہے کیونکہ ابتدائی اور جزوی گنتی کے نتائج نے دونوں بڑے سیاسی بلاکس کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی تصدیق کر دی ہے۔ اتوار کو ڈالے گئے ووٹوں کی ابتدائی گنتی کے بعد سویڈن کی الیکشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ تخمینوں میں بتایا گیا ہے کہ بائیں بازو کا اپوزیشن بلاک پارلیمنٹ میں ایک نشست کی معمولی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ یہ انتہائی سنسنی خیز اور قریب ترین مقابلہ ہے جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج کے اعلان تک صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکے گی کیونکہ ہر ایک نشست کی گنتی انتہائی اہمیت کی حامل بن چکی ہے۔ سویڈن کی حالیہ سیاسی تاریخ میں اس طرح کا سخت اور پُرتناؤ مقابلہ شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا ہے جہاں حکومت سازی کا دارومدار صرف چند ووٹوں پر ہو سکتا ہے۔ الیکشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دونوں بلاکس کے درمیان ووٹوں کا تناسب انتہائی کم ہے اور جیسے جیسے ووٹوں کی حتمی گنتی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، سیاسی جماعتوں کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ملک میں ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اتحادی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے سیاسی جوڑ توڑ میں تیزی آئے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بائیں بازو کا بلاک اپنی اس معمولی برتری کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بھی سویڈن کی اگلی حکومت کے لیے پالیسیاں بنانا ایک بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ پارلیمنٹ میں ان کی پوزیشن انتہائی نازک اور کمزور ہوگی۔ دوسری جانب، دائیں بازو اور قدامت پسند جماعتیں بھی اس دوڑ میں پوری طرح شامل ہیں اور وہ بھی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں کہ آخری لمحات میں بازی پلٹ دی جائے۔ انتخابی عمل سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی حتمی تصدیق اور تمام بیلٹ پیپرز کی گنتی مکمل ہونے میں ابھی کچھ وقت اور درکار ہے، جس کے بعد ہی سویڈن کے آئندہ سیاسی مستقبل کا حتمی نقشہ سامنے آ سکے گا۔