World
امریکہ میں خسرہ سے تیسری ہلاکت، طبی حکام کی تشویش
امریکہ میں خسرہ کے مرض سے مزید ایک شخص کی موت واقع ہو گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں اس بیماری سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔ پنسلوانیا کے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ چالیس سالہ خاتون اس خطرناک مرض کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئی۔
امریکہ میں خسرہ (Measles) کے مرض سے تیسری ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر کے طبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکام کے مطابق تازہ ترین واقعہ ریاست پنسلوانیا میں پیش آیا جہاں ایک چالیس سالہ خاتون اس بیماری کے باعث انتقال کر گئی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں دو ہزار میں خسرہ کے خاتمے کا اعلان کیا جا चुका تھا، تاہم حالیہ کیسز نے صحت عامہ کے اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پنسلوانیا میں پیش آنے والا یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ وائرس اب بھی کمزور اور غیر محفوظ افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ویکسی نیشن میں کمی یا غفلت اس بیماری کے دوبارہ سر اٹھانے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ امریکہ میں دو ہزار کے سال اس بیماری کو باضابطہ طور پر ختم شدہ قرار دے دیا گیا تھا کیونکہ بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن مہمات کامیاب رہی تھیں، لیکن حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے کیسز نے اس کامیابی کو چیلنج کر دیا ہے۔ وفاقی اور ریاستی سطح پر طبی ادارے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین صحت نے عوام بالخصوص والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ویکسی نیشن کے شیڈول کو لازمی پورا کریں تاکہ اس انتہائی مہلک اور متعدد بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔