Business
امریکی فیکٹریوں کے لیے کلین ہیٹ اور توانائی کی تجاویز
امریکی فیکٹریوں میں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور صاف ستھری حرارت کے حصول کے لیے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف صنعتی شعبے میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ توانائی کے بلوں میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکے گی۔
امریکہ بھر میں گھریلو صارفین بلند بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں اور ملک بھر میں توانائی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ یہی مسئلہ اب خاموشی سے صنعتی شعبے اور فیکٹریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جہاں پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی فیکٹریوں کے لیے صاف ستھری حرارت اور توانائی کا حصول ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس کے حل کے لیے ماہرین نے نئی تجاویز پیش کی ہیں۔ صنعتی عمل میں حرارت کے لیے روایتی اور آلودگی پھیلانے والے ایندھن کا استعمال طویل عرصے سے ماحول کے لیے نقصان دہ رہا ہے۔
کینری میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، صنعتی شعبے کو ڈی کاربنائز کرنا موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فیکٹریوں میں بوائلرز اور دیگرہیٹنگ سسٹمز کو صاف توانائی پر منتقل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ ان تجاویز میں بجلی سے چلنے والے ہیٹنگ سسٹمز، صنعتی پیمانے پر ہیٹ پمپس اور ہائیڈروجن کے استعمال کو فروغ دینے کی بات کی گئی ہے۔ اس تبدیلی سے فیکٹریاں نہ صرف اپنے کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کر سکیں گی بلکہ طویل مدتی بنیادوں پر توانائی کے بحران سے بھی محفوظ رہ سکیں گی۔
تاہم، اس منتقلی کے راستے میں مالیاتی اور تکنیکی رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔ بہت سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانوں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اپنے پورے نظام کو یکدم تبدیل کر سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے حکومتی سطح پر سبسڈی اور مالی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ اگر صنعتوں کو مناسب ترغیبات دی جائیں تو وہ ماحول دوست توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہو سکتی ہیں، جس سے معیشت اور ماحول دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔