LIVE
Loading Breaking News...

پولینڈ یوکرین سرحد پر روسی حملے، کشیدگی میں اضافے کا الزام

News Image
پولینڈ اور یوکرین نے سرحد کے قریب ہونے والے روسی حملوں کو جنگ میں مزید کشیدگی قرار دیا ہے۔ حملے کے وقت سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سمیت کئی مغربی رہنما بھی قریبی علاقے میں موجود تھے۔
پولینڈ اور یوکرین کے حکام نے روس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولش سرحد کے قریب حالیہ فضائی حملے دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع میں خطرناک کشیدگی کا واضح اشارہ ہیں۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروٹیاں نہ صرف یوکرین بلکہ خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں جن پر عالمی برادری کو فوری طور پر سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے۔ دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے نیٹو کی سرحدوں کے اتنے قریب ہونا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے دوران ایک اہم واقعہ یہ بھی سامنے آیا کہ حملے کے وقت برطانوی کے سابق وزیراعظم بورس جانسن سمیت کئی نامور مغربی اور بین الاقوامی رہنما بھی اس علاقے کے قریب ہی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام شخصیات یوکرین کے دورے پر تھیں اور سرحد کے قریبی علاقوں کا جائزہ لے رہی تھیں جب روسی فورسز نے ہدف کو نشانہ بنایا۔ خوش قسمتی سے اس حملے میں کسی بھی مغربی رہنما کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی لیکن اس واقعے نے سکیورٹی کے حوالے سے کئی اہم سوالات ضرور اٹھا دیے ہیں۔ عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں اس حملے کے بعد شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مغربی ممالک کی جانب سے روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ یوکرینی صدر نے ایک بار پھر اپنے مغربی اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ اس طرح کے حملوں کو مستقبل میں روکا جا سکے۔ ادھر پولینڈ کی حکومت نے بھی اپنی سرحدوں پر سکیورٹی کے انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نپٹا جا سکے اور ملکی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جا سکے۔