World
جیرڈ کشنر کا بیان، دوحہ حملہ اور اسرائیل کی عالمی تنہائی
امریکی ایلچی جیرڈ کشنر نے دوحہ میں حماس کی قیادت پر ہونے والے ناکام اسرائیلی حملے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس غیر مؤثر اقدام کی وجہ سے اسرائیل کو بین الاقوامی برادری میں شدید تنہائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی ایلچی جیرڈ کشنر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی ناکام اسرائیلی کوشش ایک انتہائی ہولناک اور غلط قدم تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی ہے اور امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ جیرڈ کشنر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس ناکام اور خطرناک فوجی کارروائی نے اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنہائی کا شکار کر دیا ہے، کیونکہ دنیا بھر کے ممالک اب اس قسم کی کارروائیوں پر کھل کر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کشنر کا یہ بیان خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دوحہ میں ہونے والے اس واقعے کے بعد سے سفارتی سطح پر چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں اور بین الاقوامی مبصرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کے امن عمل پر اس کے کیا طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے۔ اسرائیل کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی تردید یا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اس بیان پر بحث کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔