LIVE
Loading Breaking News...

موبائل فون کے بانی مارٹن کوپر کا تاریخی مواصلاتی فلسفہ

News Image
موبائل فون کی صنعت کے بانی مارٹن کوپر کا کہنا ہے کہ انسانی مواصلات کی اصل بنیاد انسان سے انسان کا رابطہ ہے۔ ان کے اس وژن نے جدید ڈیجیٹل دور کی بنیاد رکھی.
امریکی انجینئر اور وائرلیس مواصلات کی صنعت کے صف اول کے بانی مارٹن کوپر نے ایک بار پھر انسانی رابطے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لوگ دراصل کسی گھر، دفتر یا کار سے نہیں بلکہ دوسرے انسانوں سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ مارٹن کوپر کے اس فلسفے نے ہی دنیا کو ایک ایسے دور میں داخل کیا جہاں مواصلات کا انحصار مقام کے بجائے انسان کی ذات پر ہو گیا۔ موٹرولا کے لیے کام کرنے والے مارٹن کوپر کو دنیا کا پہلا موبائل فون بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے جب پہلی بار پورٹیبل فون کے ذریعے کال کی تھی، تب ہی انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ تاروں سے بندھی ہوئی دنیا اب تبدیل ہونے والی ہے۔ ان کا نظریہ تھا کہ انسان ایک متحرک مخلوق ہے اور اس کا رابطہ بھی کسی خاص عمارت یا مشین تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر جگہ اور ہر وقت ممکن ہونا چاہیے۔ موجودہ دور میں جب سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا دیا ہے، مارٹن کوپر کے یہ الفاظ انتہائی معنی خیز ثابت ہوتے ہیں۔ ٹیکنالوجی میں خواہ کتنی ہی تبدیلیاں کیوں نہ آ جائیں اور مصنوعی ذہانت کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، لیکن انسانی نفسیات کا بنیادی تقاضا اب بھی ایک دوسرے سے براہ راست بات چیت کرنا ہی ہے۔ نیکسورا نیوز کے مطابق مارٹن کوپر کی یہ سوچ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے مواصلاتی ٹیکنالوجی کو انسان دوست بنانے میں جو کردار ادا کیا ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ان کا یہ قول اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ٹیکنالوجی کا اصل مقصد انسانی فاصلوں کو کم کرنا اور آپس کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔