World
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی کا بحران
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحیرہ احمر و آبنائے ہرمز پر بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے عالمی تیل کی سپلائی لائنز بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ خلیجی ممالک اپنی توانائی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے اور سپلائی کے متبادل راستے تلاش کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں روز بروز بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ عسکری جھڑپوں نے عالمی مارکیٹ میں توانائی کی سپلائی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر ہونے والے نئے حملوں اور اہم سمندری گزرگاہوں پر منڈلاتے ہوئے خطرات نے بین الاقوامی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور انرجی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس سے دنیا بھر کے ممالک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسی انتہائی اہم تجارتی اور توانائی کی گزرگاہوں پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ علاقے دنیا بھر میں تیل کی نقل و حمل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہ راست عالمی تجارت کو مفلوج کر سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک اب اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اس تنگ سمندری راستے کے متبادل تلاش کریں تاکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے باوجود تیل کی برآمدات بلا تعطل جاری رکھی جا سکیں۔
نیکسورا نیوز اردو کے مطابق، توانائی کی نئی جغرافیائی سیاست نے خلیجی خطے کی حکومتوں کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ خلیجی ممالک تیزی سے ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جو آبنائے ہرمز سے ہٹ کر تیل کی ترسیل کے لیے نئے اور محفوظ زمینی و سمندری راستے فراہم کر سکیں۔ اس کے باوجود، عالمی سطح پر توانائی کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات بدستور برقرار ہیں اور سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔