LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی اور خلیجی ممالک کی مشکلات

News Image
یمن کے اندر حوثی باغیوں کی تیز رفتار پیش قدمی نے خلیجی ممالک کو ایک انتہائی غیر آرام دہ اور پیچیدہ سفارتی و عسکری دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اس صورتحال سے خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
یمن کے اندر حوثی باغیوں کی حالیہ اور برق رفتار پیش قدمی نے خلیجی ممالک کو ایک انتہائی پیچیدہ اور غیر آرام دہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یمن کے مختلف علاقوں میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے خلیجی دارالحکومتوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اس صورتحال میں خطے کے اہم ممالک کے پاس اب محدود ہی آپشنز رہ گئے ہیں۔ یمن کی سرکاری فوج اور اتحادیوں کی جانب سے حوثی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے باوجود باغی اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تازہ ترین جھڑپیں اور یمن میں ابھرتی ہوئی نئی صورتحال علاقائی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا امتحان بن چکی ہے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں اس تنازع کو محدود رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں، تاہم حوثیوں کی اس جارحانہ حکمت عملی نے انہیں ایک کٹھن فیصلے پر مجبور کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر پڑیں گے۔ عالمی برادری اور علاقائی طاقتیں اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی تباہی کو روکا جا سکے اور سفارتی سطح پر حل تلاش کیا جا سکے۔