World
ایران اور خلیجی ممالک کے مذاکرات آبنائے ہرمز تنازع پر ملتوی
خطے میں جاری سفارتی ڈیڈ لاک اور خلیجی ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ایران اور عرب ریاستوں کے درمیان اہم ملاقات ملتوی کر دی گئی ہے۔ اومان کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے نازک امور پر ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان طے شدہ اہم مذاکرات کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تاخیر کی بنیادی وجہ علاقائی سطح پر مکمل اتفاق رائے کا فقدان اور سفارتی تعطل بتائی جا رہی ہے۔ اومان کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان ہونے والی بات چیت کو موجودہ حالات کے تناظر میں آگے بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ بحرین نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ فی الحال ان مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم بحری راستہ ہے، جہاں ماضی میں بھی کشیدگی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ اس اہم گزرگاہ کے حوالے سے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات کا انعقاد خطے میں امن اور استحکام کے قیام کی کوششوں کا ایک اہم حصہ مانا جا رہا تھا، تاہم تازہ ترین پیش رفت نے سفارتی کوششوں کو عارضی طور پر سست کر دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ خلیجی ممالک اس مسئلے پر ایک مشترکہ اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کرنا چاہتے ہیں تاکہ خطے کے سکیورٹی خدشات کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔ جب تک تمام فریقین کے درمیان بنیادی نکات پر اتفاق نہیں ہو جاتا، اس قسم کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب بین الاقوامی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کا تناؤ عالمی توانائی کی منڈیوں اور معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ سفارتی ذرائع سے اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے کیا نئے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور آیا خلیجی ممالک دوبارہ بات چیت کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔