World
يمن بحران اور حوثی حملے: سعودی عرب کی صورتحال اور عالمی ردعمل
يمن میں جاری خانہ جنگی اور لڑائی میں خطرناک حد تک شدت آ گئی ہے جبکہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف اپنے حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
يمن میں جاری تنازع اور خانہ جنگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں فریقین کے درمیان لڑائی میں شدید تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے خلیجی خطے میں سکیورٹی کے نئے خدشات کو جنم دیا ہے اور عالمی برادری کے لیے بھی گہری تشویش کا باعث بن گیا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔دوسری جانب یمنی سرکاری افواج اور حوثیوں کے درمیان زمینی جھڑپیں بھی شدت اختیار کر چکی ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان حالیہ حملوں اور تنازع میں اضافے نے خطے کے تمام اہم ممالک کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے اور اس کے اثرات پوری خطے کی معیشت اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔اس کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان نے بھی سفارتی سطح پر اپنے کردار کو فعال رکھا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان اس خطے میں امن کے قیام کے لیے مختلف فریقین کے درمیان ثالثی اور سفارتی رابطوں کو اہمیت دیتا ہے تاکہ مزید خون خرابے سے بچا جا سکے اور مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے، تاہم بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے خطے کے ممالک پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔