LIVE
Loading Breaking News...

بకిنگھم پیلس میں انیسویں صدی کی تاریخی اشیاء کی دریافت

News Image
برطانیہ کے شاہی محل بకిنگھم پیلس میں جاری مرمت اور تزئین و آرائش کے کام کے دوران انیسویں صدی کے دور کی کئی تاریخی اور بھولی ہوئی روزمرہ اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔ ان نایاب اشیاء سے شاہی رہائش گاہ کی ماضی کی روزمرہ زندگی کی جھلک ملتی ہے۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع شاہی رہائش گاہ بకిنگھم پیلس کی تزئین و آرائش اور مرمت کے دوران انیسویں صدی کی کئی تاریخی اور بھولی ہوئی اشیاء برآمد کی گئی ہیں۔ شاہی محل میں جاری اس طویل مرمتی کام کے دوران ماہرین اور کارکنوں کو یہ نوادرات ملے ہیں، جو اس دور کی شاہی عمارات کے اندرونی نظام اور روزمرہ زندگی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس دریافت میں روزمرہ استعمال کی عام اشیاء شامل ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ شاہی محلات کے کونوں کھدروں میں چھپ گئی تھیں یا فراموش ہو چکی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام اشیاء انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کے دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان برآمد شدہ چیزوں میں پرانے زمانے کی گھریلو اشیاء، برتن اور دیگر ایسی روزمرہ کی چیزیں شامل ہیں جو اس وقت کے محلات کے مکینوں یا عملے کے زیر استعمال رہتی ہوں گی۔ اس قسم کی دریافتیں مؤرخین اور محققین کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں کیونکہ ان کے ذریعے شاہی خاندان کی ذاتی زندگی اور عملے کے روزمرہ معمولات پر روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔ بకిنگھم پیلس برطانیہ میں برطانوی بادشاہت کا مرکزی دفتر اور رہائش گاہ ہے، جہاں وقتاً فوقتاً عمارت کی دیکھ بھال اور تزئین و آرائش کا کام کیا جاتا ہے۔ اس تاریخی عمارت کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، اور اس میں ہونے والے حالیہ کاموں نے ایک بار پھر اس کے ماضی کے دریچے وا کر دیے ہیں۔ محل کے حکام ان دریافت ہونے والی اشیاء کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ان کی تاریخی اہمیت کو مزید اچھی طرح سے سمجھا جا سکے اور آنے والے وقت میں انہیں محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ نایاب اشیاء اس بات کا ثبوت ہیں کہ بڑی عمارات کی مرمت کے دوران کس طرح تاریخ کے پوشیدہ باب سامنے آتے ہیں۔ اگرچہ یہ روزمرہ کی عام چیزیں ہیں، لیکن شاہی ماحول میں ان کی موجودگی اس دور کے طرز زندگی اور ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان اشیاء کو مستقبل میں شاہی نمائشوں کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ عوام بھی انیسویں صدی کے شاہی محل کے پوشیدہ پہلوؤں سے آگاہ ہو سکیں۔