Health
غلط تشخیص: گیارہ سال تک غیر ضروری کیموتھراپی برداشت کرنے والی خاتون کی قانونی کارروائی
برطانیہ میں ایک خاتون کو غلط میڈیکل تشخیص کی بنیاد پر گیارہ سال تک کینسر کی مہلک کیموتھراپی دی جاتی رہی۔ اب متاثرہ خاتون سمیت چالیس سے زائد افراد نے متعلقہ ہسپتال ٹرسٹ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔
برطانیہ سے صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ایک انتہائی ہولناک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون کو غلط طبی تشخیص کی وجہ سے مسلسل گیارہ سال تک کیموتھراپی جیسی تکلیف دہ اور طاقتور ادویات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سنگین غفلت کا شکار ہونے والی بیکی جونز نامی خاتون ان چالیس سے زائد افراد میں شامل ہیں جو اب اس غلط تشخیص اور طبی غفلت پر ہسپتال ٹرسٹ کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ اس لرزہ خیز واقعے نے طبی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور ہسپتالوں کے اندر تشخیص کے معیار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق، بیکی جونز کو ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ وہ کینسر کے ایک ایسے موذی مرض میں مبتلا ہیں جس کے فوری علاج کے لیے کیموتھراپی ناگزیر ہے۔ ایک عام مریض کے لیے ڈاکٹروں کی رائے پر اعتماد کرنا فطری عمل ہے، اور اسی بھروسے کی بنیاد پر بیکی نے سالوں تک وہ تمام طبی عذاب برداشت کیا جو درحقیقت انہیں کسی بھی طور پر درکار نہیں تھا۔ گیارہ سال کا طویل عرصہ کیموتھراپی کے سائیڈ ایفیکٹس کے ساتھ جینا نہ صرف جسمانی بلکہ شدید ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے، اور اس دوران متاثرہ خاتون کو جو تکالیف اٹھانی پڑیں وہ ناقابل بیان ہیں۔
جب اس پورے معاملے کی اندرونی تحقیقات اور دوبارہ ٹیسٹ کیے گئے تو حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ بیکی جونز کو کبھی کینسر تھا ہی نہیں۔ اس بات کا انکشاف ہونے کے بعد متاثرہ خاتون پر پہاڑ ٹوٹ پڑا کہ انہوں نے بغیر کسی بیماری کے اپنی زندگی کے گیارہ سال کینسر کی دواؤں اور ہسپتالوں کے چکر کاٹتے ہوئے گزار دیے۔ اس تشویشناک انکشاف کے بعد قانونی ماہرین کی مدد سے متاثرہ افراد نے ہسپتال ٹرسٹ کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس غفلت کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جا سکے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
قانونی جنگ لڑنے والے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک فرد کی غلطی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے طبی نظام کی شفافیت اور ذمہ داری کا سوال ہے۔ متاثرہ افراد کی نمائندگی کرنے والے حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو اس سنگین غفلت کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور متاثرہ مریضوں کو مناسب معاوضہ دینا چاہیے۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ طبی دنیا میں سیکنڈ میڈیکل اوپینین یعنی دوسری رائے کی کتنی اہمیت ہے تاکہ ایسی خوفناک غلطیوں سے معصوم جانوں کو بچایا جا سکے۔