World
ہمالیہ کے گلیشیرز کی تیزی سے پگھلاوٹ اور بھارتی معیشت پر اثرات
ایک نئی رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کے گلیشیرز کے تیزی سے پگھلنے کا عمل بھارت کی معیشت، پانی کے ذخائر اور مقامی آبادیوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے تباہ کن معاشی اور ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔
ایک تازہ ترین رپورٹ میں انتہائی تشویشناک انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی چھت کہلانے والے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں گلیشیرز کے پگھلنے کی رفتار میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف خطے کے قدرتی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اس کے براہ راست اثرات بھارت کے آبی وسائل، کروڑوں افراد کی زندگیوں اور مجموعی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیرز کا اس رفتار سے پگھلنا مستقبل قریب میں شدید قحط، سیلاب اور پانی کی قلت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے پانی کا یہ بحران زرعی شعبے پر سب سے پہلے کاری ضرب لگائے گا، کیونکہ ملک کا زرعی ڈھانچہ بڑی حد تک ندی نالوں اور گلیشیرز کے پانی پر منحصر ہے۔ جب گلیشیرز ختم ہو جائیں گے تو دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بے قاعدہ ہو جائے گا، جس سے فصلوں کی کاشت شدید متاثر ہوگی اور خوراک کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ صنعتی پیداوار اور پن بجلی کے منصوبے بھی اس پانی کی قلت کی زد میں آئیں گے، جس سے صنعتی ترقی کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ ہے۔
ماہرینِ ماحولیات اور اقتصادی تجزیہ کاروں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع پالیسیاں مرتب کریں۔ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر آبی وسائل کے موثر انتظام اور گلیشیرز کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اگر اس سنگین صورتحال کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف معاشی ترقی کے اہداف ادھورے رہ جائیں گے بلکہ کروڑوں انسانوں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔