LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا اے آئی کی رفتار سست کرنے کا مطالبہ مسترد، چین پر برتری پر زور

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کے بڑے رہنماؤں کی طرف سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کو دھیما کرنے کی اپیلوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کو اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں چین پر اپنی برتری ہر صورت برقرار رکھنی چاہیے۔
امریکی سیاست اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بار پھر مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کی ترقی کے حوالے سے بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ معروف ٹیک کمپنیوں کے سربراہان اور ماہرین نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اے آئی کی بے لگام ترقی انسانیت اور معاشرے کے لیے خطرات کا باعث بن سکتی ہے، جس کے پیش نظر اس کی رفتار کو کچھ عرصے کے لیے سست کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام اپیلوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اس شعبے میں کسی بھی قسم کی پسپائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ان کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر امریکہ کی برتری بالخصوص چین کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اس کی سبقت کو برقرار رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو کم کیا تو اس کے مخالفین، بالخصوص چین، اس خلاء کا فائدہ اٹھا کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں غلبہ حاصل کر سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں اے آئی کو ملکی سلامتی، معیشت اور مستقبل کے دفاع کے لیے کلیدی حیثیت حاصل ہے، اور ٹرمپ نے اسی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر اس ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام جاری رکھنے کی وکالت کی ہے۔ ٹیک انڈسٹری کے اندر اس وقت دو آراء پائی جاتی ہیں؛ ایک طرف جہاں حفاظتی اقدامات، ضابطہ کاری اور ترقی کو ایک محفوظ حد تک محدود رکھنے کے حامی موجود ہیں، وہیں دوسری طرف سیاسی اور تجارتی حلقے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عالمی مسابقت میں پیچھے رہ جانا ملکی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ مؤقف اسی دوسری سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو نجی اور سرکاری سطح پر اس بات کی متقاضی ہے کہ امریکہ کو ہنرمندی اور اختراع میں دنیا کا سرکردہ ملک رہنا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سیاست اور ٹیکنالوجی کی دنیا پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔