LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں مرغی کی کھپت کی تاریخ اور حیرت انگیز حقائق

News Image
برطانیہ میں 1958ء کے دوران مرغی کا گوشت ایک لگژری اور نایاب خوراک سمجھا جاتا تھا جسے صرف ایک فیصد لوگ کھاتے تھے۔ تاہم اب یہ برطانوی معاشرے کی سب سے مقبول غذا بن چکی ہے جہاں سالانہ ایک اعشاریہ ایک ارب مرغیاں استعمال کی جاتی ہیں۔
برطانیہ میں مرغی کے گوشت کا استعمال اب روزمرہ کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے لیکن ماضی میں صورتحال بالکل مختلف تھی۔ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 1958ء میں ڈبلیو ایس کرافورڈ نامی ایک اشتہاری ایجنسی نے برطانوی عوام کی غذائی عادات جاننے کے لیے وسیع پیمانے پر تحقیق کی تھی۔ اس سروے کے دوران چار ہزار خاندانوں سے براہ راست بات چیت کی گئی تاکہ معلوم ہو سکے کہ برطانوی گھرانوں میں کون سی غذائیں کھائی جاتی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق اس دور میں مرغی کا گوشت عام آدمی کی پہنچ سے دور تھا اور صرف ایک فیصد برطانوی شہری ہی اسے کھانے کے متحمل ہو سکتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ زراعت، پولٹری فارمنگ اور سپلائی چین میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جدید سائنسی طریقوں اور بڑے پیمانے پر پیداوار نے مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جس کے بعد یہ لگژری غذا بتدریج عام آدمی کی پلیٹ تک پہنچ گئی۔ موجودہ دور کے اعداد و شمار انتہائی حیرت انگیز ہیں کیونکہ برطانوی معاشرہ اب سالانہ ایک اعشاریہ ایک ارب مرغیاں کھا رہا ہے۔ اس بے پناہ اضافے نے اس بات پر بحث مباحثہ چھیڑ دیا ہے کہ آخر برطانوی عوام اتنی بڑی تعداد میں مرغی پر کیوں انحصار کرنے لگے ہیں اور اس کی پیداوار کے حقیقی ذرائع کیا ہیں۔ اس تبدیلی کے پیچھے کئی سماجی اور معاشی عوامل کارفرما ہیں۔ تیز رفتار طرز زندگی، تیار کھانوں کا رجحان اور سرخ گوشت کے مقابلے میں مرغی کے گوشت کو نسبتاً صحت مند اور سستا متبادل سمجھنا اس کی مقبولیت کی بڑی وجوہات ہیں۔ تاہم اس بات پر بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ اتنی بڑی طلب کو پورا کرنے کے لیے مرغیوں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آتی ہے اور پولٹری انڈسٹری کس طرح ماحول اور جانوروں کی فلاح و بہبود کو متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرغی کا یہ عالمی یا برطانوی جنون دراصل جدید فوڈ انڈسٹری کی مارکیٹنگ اور سستی خوراک کی دستیابی کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک عام اور سستا پروٹین سورس بن چکا ہے لیکن اس کی پیداوار کے پیچھے چھپے ہوئے صنعتی طریقہ کار اور سپلائی چین کے چیلنجز پر اب سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے تاکہ خوراک کے معیار اور پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔