Technology
تائیوان میں چینی خفیہ چپ لیبز کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن اور تحقیقات
تائیوان کے حکام نے گزشتہ چھ سالوں کے دوران چین سے مبینہ تعلقات چھپانے والی کمپنیوں کے خلاف 166 مقدمات کی تحقیقات کی ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد تائیوان کی حساس سیمی کنڈکٹر اور چپ انڈسٹری کو غیر قانونی چینی اثر و رسوخ سے بچانا ہے۔
تائیوان کے حکام نے ملک کی حساس سیمی کنڈکٹر اور چپ انڈسٹری کو غیر ملکی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک بڑی مہم کے دوران انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ چھ سالوں میں 166 ایسی کمپنیوں کی تحقیقات کی گئی ہیں جن پر چین سے تعلقات کو جان بوجھ کر چھپانے کا الزام ہے۔ تائیوان کی یہ کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ جزیرہ نما خطے میں ٹیکنالوجی کے شعبے کی سلامتی کتنی اہم ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق، دنیا بھر میں جدید چپ سازی کی صنعت میں تائیوان کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور چین کی جانب سے اس صنعت میں رسائی حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے حکومتی سطح پر سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس چھ سالہ طویل تفتیشی عمل کے دوران سامنے آنے والے مقدمات میں کئی ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو بظاہر کسی دوسرے ملک کی ملکیت ظاہر ہوتی تھیں لیکن اندرونی طور پر ان کے تار چین سے جڑے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر، بلیو اوشین اسمارٹ سسٹم (Blue Ocean Smart System) کا معاملہ بھی اس کریک ڈاؤن کا حصہ رہا ہے، جو تائیوان میں ایک امریکی کمپنی کے طور پر کام کر رہی تھی لیکن درحقیقت اس کے پیچھے چینی سرمائے اور ملکیت کا نقاب تھا۔ اس قسم کی نقاب پوش کمپنیوں کا مقصد تائیوان کے جدید ترین تکنیکی رازوں اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری کی صلاحیتوں تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے، جس سے تائیوان کی معاشی اور تکنیکی برتری کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
تائیوان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور انٹیلی جنس اداروں نے اس حوالے سے اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے تمام عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رکھیں گے جو تائیوان کے قوانین کو دھوکہ دے کر چین کے لیے جاسوسی یا تکنیکی چوری کا سبب بن رہے ہیں۔ اس پوری صورتحال نے عالمی سطح پر بھی ٹیکنالوجی کی جنگ اور سپلائی چین کی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں ممالک اپنی انتہائی اہم ٹیکنالوجیز کو حریف ممالک کی نظروں سے بچانے کے لیے حفاظتی حصار مضبوط کر رہے ہیں۔