LIVE
Loading Breaking News...

جزیرہ قشم کے قریب ایرانی کارگو جہاز پر حملہ اور خلیجی مذاکرات مؤخر

News Image
جزیرہ قشم کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس تازہ واقعے کے بعد عمان میں تہران اور خلیجی ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب خلیج فارس میں جزیرہ قشم کے قریب ایک ایرانی کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ برطانوی بحری تجارتی آپریشنز کے ادارے (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے اس واقعے نے علاقے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید ہوا دی ہے، جبکہ تیل کی سپلائی اور بحری جہاز رانی کے حوالے سے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اس حملے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اس سے سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ دوسری جانب، اس تازہ پُرتشدد واقعے کے اثرات سفارتی سطح پر بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عمان میں تہران اور خلیجی ممالک کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ یہ مذاکرات خطے میں جاری سفارتی ڈیڈلاک کو ختم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش تھے، لیکن تازہ ترین حملوں کے بعد فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا کو شدید دھچکا لگا ہے، جس سے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی راہیں۔ بھی مزید دندھلا گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات خطے کو ایک خطرناک تصادم کی طرف دھکیل سکتے ہیں جہاں پہلے ہی یمن، بحیرہ احمر اور دیگر مقامات پر سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ ایرانی کارگو جہاز پر حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور توانائی کے بحران کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے میں مزید خون خرابے اور اقتصادی تباہی کو روکا جا سکے۔