World
شی جن پنگ کا برکس اقتصادی تعلقات اور عالمی کردار پر زور
چینی صدر شی جن پنگ نے برکس ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر اس بلاک کے کردار کو بڑھانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے بھی برکس کے کردار کو اہم قرار دیا ہے۔
بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ نے برکس ممالک کے مابین اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’گریٹر برکس‘ کے تصور کو فروغ دیا جائے تاکہ اس معاشی بلاک کو عالمی سطح پر مزید با اثر اور مضبوط کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔ چینی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی اور معاشی حرکیات میں برکس جیسے پلیٹ فارمز کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کی جانب سے اس اتحاد کو وسعت دینے کی کوششوں کا مقصد عالمی اقتصادی نظام میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کا حصہ اور آواز کو بلند کرنا ہے۔
اس سربراہی اجلاس کے دوران مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور وہاں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ برکس ممالک کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ عالمی امور میں اس بلاک کی بڑھتی ہوئی اہمیت اس بات کی غماز ہے کہ یہ ممالک اب صرف اقتصادی تعاون تک محدود نہیں بلکہ عالمی امن اور سلامتی کے مسائل پر بھی اجتماعی لائحہ عمل اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک اہم تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، اس سربراہی اجلاس کے موقع پر چین اور بھارت کے تعلقات میں برف پگھلنے کے اشارے بھی ملے ہیں، جن پر عالمی میڈیا کی خصوصی توجہ مرکوز رہی۔ چینی صدر نے اس دورے کے دوران بھارتی قیادت بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بات چیت کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایشیائی خطے کے ان دو بڑے ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت کے لیے سودمند ہے بلکہ یہ پورے خطے میں استحکام اور ترقی کے نئے دروازے بھی کھول سکتی ہے۔
برکس کا یہ حالیہ اجتماع اس اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں دنیا کی چند بڑی ابھرتی ہوئی معیشتیں ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہیں۔ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے باہمی تجارت کے فروغ، مقامی کرنسیوں کے استعمال اور عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کے مطالبات پر بھی اتفاق کیا۔ چین کی جانب سے ’گریٹر برکس‘ کے اس نئے عزم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی معیشت اور سیاست میں اس اتحاد کا اثر و رسوخ مزید وسیع ہو جائے گا، جس کے دور رس نتائج برکس کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔