Business
مشرق وسطیٰ تنازع: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ گئیں
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سعودی عرب اور آبنائے ہرمز پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں سفارتی کوششیں ناکام ہونے اور ایران کے حوالے سے بیانات کے بعد تیل کی منڈی میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ اور اہم تنصیبات پر ہونے والے حملے ہیں۔ سعودی عرب اور آبنائے ہرمز کے قریب نئے فضائی و زمینی حملوں کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد کا اچانک تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی صورتحال اتنی غیر یقینی ہو چکی ہے کہ اب توانائی کی سپلائی لائنیں شدید خطرے کی زد میں آ گئی ہیں، جس سے بین الاقوامی منڈی میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔
اس صورتحال کے پس منظر میں معیاری مالیاتی اداروں اور انرجی ریسرچ فرمز نے وارننگ دی ہے کہ موجودہ عالمی تیل کی مارکیٹ اب ایسے حالات میں ڈھل چکی ہے جہاں قیمتوں میں زیادہ تیزی سے اور بار بار شدید اونچ نیچ دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ سٹینڈرڈ چارٹرڈ سمیت مختلف اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جب تک خطے میں امن اور سفارتی استحکام بحال نہیں ہوتا، سپلائی میں خلل کے خدشات برقرار رہیں گے۔ سفارتی محاذ پر بھی معاملات تعطل کا شکار ہیں اور کسی فوری حل کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں، جس سے تجارتی حلقوں میں شدید بے یقینی پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب، امریکہ کی جانب سے ایران سے متعلق سخت بیانات اور معاملات کو جلد سلجھانے کے امکانات کو رد کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر کی طرف دھکا ملا ہے۔ اگرچہ ہفتے کے اختتام پر قیمتوں میں معمولی کمی بھی دیکھی گئی، لیکن مجموعی طور پر پورا ہفتہ تیل کی مارکیٹ کے لیے انتہائی اتار چڑھاؤ والا رہا اور ہفتہ وار بنیادوں پر نمایاں منافع یا تیزی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے کے زمینی حقائق اور سیاسی بیانات عالمی معیشت اور خصوصاً پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔