Politics
نئے صوبوں کی تشکیل پر بحث اور سیاسی تنازعہ
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے اور اسے آئین سے تجاوز قرار دیا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کا اصرار ہے کہ شہری سندھ کا مقدمہ سب سے مضبوط ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس بحث کو آگے بڑھانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ موضوعِ بحث بن گیا ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں اس حساس معاملے پر آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان نے شہری سندھ کے لیے نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے مطالبے کو مزید تیز کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا مقدمہ ملک بھر میں سب سے زیادہ مضبوط اور جائز ہے۔ جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے شہری علاقوں کے مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے اب انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی حلقوں اور آئینی ماہرین کی طرف سے اس منصوبے کو آئین سے متصادم اور غیر آئینی قرار دینے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ آئینی ڈھانچے اور طریقہ کار کے تحت صوبوں کی تشکیل کوئی آسان عمل نہیں ہے اور اس کے لیے دو تہائی اکثریت سمیت کئی پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس تناظر میں وفاقی حکومت کے ترجمان اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کے اس پورے مباحثے اور قانونی کارروائی کو مکمل ہونے میں کم از کم چھ سے آٹھ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کے سیاسی انتشار یا آئینی بحران سے بچا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ معاشی اور سیاسی بحران کے دوران نئے صوبوں کا تنازعہ ملکی سیاست میں مزید محاذ آرائی کو جنم دے سکتا ہے، جس سے حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔