Pakistan
وزیر اعظم شہباز شریف کی اوگرا کی تشکیل نو اور ڈیجیٹائزیشن کی ہدایت
وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کو روکنے اور اوگرا کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے سپلائی چین کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور اسٹریٹجک ذخائر میں اضافے پر بھی زور دیا ہے۔
اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے نظام کو شفاف بنانے اور ذخیرہ اندوزی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مکمل تنظیم نو اور ڈیجیٹائزیشن کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اسلام آباد میں اس حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ عوام کو بلاتعطل ایندھن کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا مافیا کی اجارہ داری کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو ملک کی موجودہ ریفائنری پالیسی اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف آج ریفائنری پالیسی کے مستقبل کے حوالے سے اہم ترین فیصلوں کی منظوری بھی دیں گے، جس سے ملک میں نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر بالخصوص ایران جنگ اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، اس لیے پاکستان کو اپنے اندرونی ذخائر کو مضبوط بنانا ہوگا۔
حکومت نے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے نظام کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تیل کے کنٹینرز کی نقل و حرکت اور ڈپوز میں موجود اسٹاک کی رئیল ٹائم نگرانی کی جا سکے، جس سے ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کی تمام راہیں مسدود ہو جائیں گی۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی گنجائش کو وسعت دینے کے منصوبوں پر عمل درآمد شروع کریں تاکہ کسی بھی ناگہانی عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے ملک مکمل طور پر تیار ہو۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی میڈیا اور خبر رساں اداروں نے بھی پاکستان کی جانب سے ایندھن کی سپلائی چین کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ پر خصوصی توجہ دینے کو سراہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اوگرا کو مؤثر طریقے سے ڈیجیٹائز کر دیا گیا تو اس سے نہ صرف شفافیت آئے گی بلکہ عوام کو مقررہ نرخوں پر تیل کی فراہمی بھی یقینی ہوگی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی اور وزیراعظم کو اپنی تجاویز پیش کیں۔