AI
مصنوعی ذہانت کے انسانی حقوق پر اثرات: نیا قانون لانے کا مطالبہ
برطانیہ کے ارکان پارلیمنٹ اور ہم منصبوں پر مشتمل ایک کراس پارٹی کمیٹی نے مصنوعی ذہانت سے انسانی حقوق کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ قوانین ان ابھرتے ہوئے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
برطانیہ کے اراکینِ پارلیمنٹ اور پیئرز پر مشتمل ایک مشترکہ کراس پارٹی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیز رفتار ترقی انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے جنہیں موجودہ قوانین کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ قانونی فریم ورک میں ایسے کئی خلا موجود ہیں جو جدید ڈیجیٹل دور کے تقاضوں اور ٹیکنالوجی کے خطرات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ صورتحال عام شہریوں کے حقوق اور ان کی رازداری کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام اب روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں جن میں روزگار، انصاف، سکیورٹی اور معلومات تک رسائی کے امور شامل ہیں۔ کمیٹی کے اراکین کا مؤقف ہے کہ اگر بروقت اور سخت قانونی اقدامات نہ کیے گئے تو ٹیکنالوجی کمپنیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بلا روک ٹوک فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔ موجودہ قوانین نہ تو الگورتھمک تعصب کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ شہریوں کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ رہے گا۔
اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر کمیٹی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایک جامع قانون سازی کی جائے جو خصوصی طور پر مصنوعی ذہانت کے خطرات کو ہدف بنائے۔ اس نئے بل کا مقصد ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کو یقینی بنانا اور متاثرہ افراد کو قانونی چارہ جوئی کا حق دینا ہونا چاہیے۔ ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ دنیا بھر میں اے آئی کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح پر ایسے ضابطے ناگزیر ہو چکے ہیں جو انسانی وقار اور بنیادی آزادیوں کو ترجیح دیں۔
حکومت کے مختلف حلقوں نے کمیٹی کی سفارشات کا خیرمقدم کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاسوں میں اس معاملے پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔ دنیا بھر کے قانون ساز اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی کی جدت کو روکے بغیر اس کے منفی اثرات کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس نئے بل کی منظوری سے برطانیہ میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی سمت کا تعین کرنے میں اہم مدد ملے گی اور یہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک اہم مثال قائم کر سکتا ہے۔