LIVE
Loading Breaking News...

شمالی کوریا کے فوجی روس یوکرین جنگ میں کیوں لڑ رہے ہیں

News Image
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا اپنے فوجیوں کو روس کی جنگ میں اس وقت تک بھیجتا رہے گا جب تک اسے اس میں مالی اور سیاسی فائدہ حاصل ہوتا رہے۔ اس اقدام سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شمالی کوریا کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں اپنے فوجیوں کی ممکنہ نئی کھیپ بھیجنے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ پیانگ یانگ کی حکومت اس جنگ میں اپنے فوجیوں کو اس وقت تک شامل رکھے گی جب تک اسے اس عمل میں براہ راست مالی اور تزویراتی فوائد حاصل ہوتے رہیں گے۔ عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا کے اس قدم کے پیچھے گہرے اقتصادی اور عسکری مقاصد پوشیدہ ہیں۔ ماسکو اور پیانگ یانگ کے درمیان حالیہ مہینوں میں تعلقات انتہائی گرم جوشی کی طرف مائل ہوئے ہیں، جس میں دفاعی معاہدے اور باہمی تعاون سرفہرست ہیں۔ روس کو اس وقت افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے جبکہ شمالی کوریا کو بین الاقوامی پابندیوں کے اس دور میں بھاری فنڈنگ، خوراک اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کی تلاش ہے۔ یہ تجارتی اور عسکری لین دین دونوں حکومتوں کے لیے فی الوقت انتہائی سودمند ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ اس قسم کے اقدامات سے خطے میں تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، لیکن دونوں ممالک کے رہنما اس تعاون کو جاری رکھنے پر بضد ہیں۔ مغربی ممالک اور یوکرین کی حکومت نے شمالی کوریا کی اس مداخلت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے یورپی سکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود، جب تک یہ اتحاد شمالی کوریا کے معاشی اور سیاسی مفادات کا تحفظ کرتا رہے گا، اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ شمالی کورین فوجی روس کے شانہ بشانہ اس طویل جنگ میں لڑتے رہیں گے، جس کے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔