LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا کا یورپی یونین کے ساتھ منفرد اتحاد کا فیصلہ، امریکہ سے تجارتی جنگ تیز

News Image
کینیڈین رہنما نے یورپی یونین کی رکنیت کا امکان مسترد کر دیا ہے تاہم برسلز کے ساتھ ایک منفرد اسٹریٹجک اتحاد قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے تناظر میں کینیڈا کی جانب سے یہ ایک اہم سفارتی قدم سمجھا جا رہا ہے۔
واشنگٹن اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی اور اقتصادی محاذ آرائی کے پیش نظر کینیڈین قیادت نے اپنی بین الاقوامی پالیسیوں میں نئے سفارتی محور تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔ امریکی تجارتی پالیسیوں اور محصولات کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں کینیڈا نے اب یورپی یونین کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے تاکہ ملکی معیشت کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے اور عالمی سطح پر نئے تجارتی شراکت دار تلاش کیے جا سکیں۔ حالیہ بیانات کے مطابق کینیڈین رہنما نے باضابطہ طور پر یورپی یونین کی باقاعدہ رکنیت حاصل کرنے کا امکان تو یکسر مسترد کر دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی برسلز کے ساتھ قریبی تعلقات اور ایک منفرد نوعیت کے اتحاد کی تشکیل پر زور دیا ہے۔ کینیڈا چاہتا ہے کہ یورپی بلاک کے ساتھ تجارتی اور سیاسی سطح پر ایسے نئے تعاون کے دروازے کھولے جائیں جو دونوں فریقین کے لیے سودمند ثابت ہوں اور عالمی تجارت میں ایک توازن پیدا کر سکیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی محاذ پر بڑھتی ہوئی سرد مہری کینیڈا کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنے روایتی تجارتی انحصار کو کم کرے اور دیگر عالمی طاقتوں اور معاشی بلاگز کے ساتھ تعلقات کو وسعت دے۔ یورپی یونین کے ساتھ اس مجوزہ منفرد اتحاد سے نہ صرف کینیڈین برآمدات کو نئے منڈیوں تک رسائی ملے گی بلکہ عالمی منڈی میں اس کی پوزیشن بھی مستحکم ہوگی۔ اس پیشرفت کو بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں کینیڈا اپنی معاشی خودمختاری اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے روایتی اتحادیوں سے ہٹ کر نئے سفارتی راستے تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مجوزہ اتحاد کی شکل کیا ہوگی اور برسلز اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔